سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 65
سبیل الرشاد جلد دوم 65 سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثالث رحم اللہ تعالیٰ کا انتقامی خطاب فرموده ۲۹ را خاء۱۳۸۸اهش ۲۹ اکتوبر ۱۹۶۷ء بمقام احاطه دفاتر مجلس انصاراللہ مرکز یہ ربوہ ربوه ۲۹ اکتوبر ۱۹۶۷ء سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفتہ امسح الثالث رحمہ اللہ تعالی نے مجلس انصاراللہ مرکزیہ کے بارہویں سالانہ اجتماع میں جو اختتامی تقریر ارشاد فرمائی۔اس کا متن ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: اس وقت میں اپنے بھائیوں کو بعض اہم ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔جو ذمہ داریاں کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انصار اللہ کی مجلس پر ڈالی تھیں۔آپ نے ۱۹۴۳ ء ہی میں اس طرف مجلس انصار اللہ کو توجہ دلائی تھی اور مجلس خدام الاحمدیہ کو بھی کہ ان تنظیموں کے معرض وجود میں لانے کا باعث یہ ہے کہ حضور چاہتے ہیں کہ اس طرح جماعت میں پوری بیداری پیدا ہو جائے اور بیداری قائم رہے۔ہر دو تنظیموں نے ایک حد تک تو خوش کن کام کیا ہے لیکن جہاں تک جماعتی بیداری کا تعلق ہے ہم ابھی تک اس بات میں سو فیصدی کامیاب نہیں ہوئے۔اس اجتماع پر ہی صرف ۳۱۰ مجالس کے نمائندے تشریف لائے ہیں حالانکہ مغربی پاکستان میں اس وقت سات آٹھ سو سے زیادہ مجالس قائم ہیں۔ہر ضلع کی ہر مجلس کا کم از کم ایک نمائندہ اجتماع پر ضرور آنا چاہئے۔اس لئے کہ اگر ہماری تنظیم کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ جماعت کو ہر وقت بیدار رکھا جائے تو یہ ضروری ہے کہ تمام مجالس بلکہ اگر ہو سکے تو تمام احمدی مرکز سے پختہ تعلق رکھیں۔مرکز سے پختہ تعلق اس طرح رکھا جاتا ہے کہ ایک تو زیادہ سے زیادہ دوست زیادہ سے زیادہ اوقات پر مرکز میں جمع ہوں۔اپنے دوستوں سے ملیں جو نظام چلانے پر مقرر ہیں۔ان سے ملیں تبادلہ خیال کریں۔اپنی مقامی ضروریات اور مشکلات کو ان کے سامنے رکھیں اور اگر کسی جگہ کمزوری پائی جاتی ہو تو اُسے با ہمی مشورہ سے دور کرنے کی کوشش کی جائے۔بیداری کے قیام کے لئے دوسری اہم چیز یہ ہے کہ جو رسالے اور اخبار مرکز سے شائع ہوتے