سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 46 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 46

46 سبیل الرشاد جلد دوم فضیلت نہ دو۔یہ وہ مقام تھا جس کو آپ اپنے لئے پسند کرتے تھے۔عاجزی کا مقام ، اور خدا نے آپ کو یہ دکھا یا نظارہ - کہ کون جیتے اس عاجزی کے مقابلے میں کہ جبریل کو کہا ٹھہر جاؤ یہاں۔آگے نہیں تم نے بڑھنا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دروازہ کھل گیا۔اور آپ اس دروازہ میں داخل ہوئے اور آگے نکل گئے۔تو ایک وہ مقام ہوتا ہے۔جس کو خدا کا ایک بندہ اپنے لئے پسند کرتا ہے۔وہ عاجزی کا ہی مقام ہوتا ہے۔ایک وہ منصب ہے جس پر خدا تعالیٰ اس بندے کو بٹھا دیتا ہے۔اس کو اس پر طعن کرنا یا اس پر اعتراض کر نا یا اس کے متعلق کسی قسم کا وہم کرنا۔اس شیطان اور ابلیس لعین کا کام ہے۔کسی انسان کا کام نہیں ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے شعر ہم پڑھتے ہیں عاجزی کے۔طبیعت پر یشان ہوتی ہے جس کو جس وقت تک کہ سمجھ نہ آئے مثلاً ہے کرم خا کی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں“ مولوی لوگ کیا اعتراض کر سکتے ہیں ؟ اس پر جو مولوی ہوتا ہے وہ اعتراض کرتا ہے۔ایک شخص کو تم نے اپنا نبی بنا لیا۔وہ تو کہتے ہیں کرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں۔ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عاری یہی ہے نہ ؟ تو وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ تو وہ مقام ہے جو آپ نے اپنے لئے پسند کیا تھا تو میرے لئے اپنا یہی مقام کافی ہے۔مجھے اس سے بلندی کی ضرورت نہیں مجھے یہاں رکھ اور مجھ سے خوش ہو جا تو میں راضی۔آپ نے کہا تھا۔تکیه بر زور تو دارم ورنه من ہمچو خاکم بلکہ زاں ہم کمترے کہ میں اپنے وجود کو دیکھتا ہوں کہ مٹی کا ایک ذرہ جو ہے اس سے بھی کم مایہ ہوں ، مٹی کے ایک ذرہ سے بھی۔لیکن یہ اس وقت کا ہے جب آپ کو یہ مقام مل گیا۔جس مقام پر ٹو نے کھڑا کیا ہے۔مجھے وہاں طاقت کی ضرورت ہے۔میں اپنے آپ کو دیکھتا ہوں تو ذره خاکی سے بھی کم تر۔اس واسطے جب تک تجھ پر میرا بھروسہ نہ ہو۔میرا کام نہیں چل سکتا۔بیسیوں شعر سینکڑوں نثر کی عبارتیں ہیں۔خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے لئے جو پسند کرتے تھے انہیں وہ کہتے چلے گئے۔آپ نے فرمایا کہ میں گوشہ تنہائی میں پڑا تھا۔بڑا خوش تھا کہ ایک طرف پڑا ہوں۔نہ دنیا مجھے جانتی ہے اور نہ مجھے اس سے سروکار ہے۔اپنے رب کی عبادت میں مشغول ہوں۔تب خدا تعالیٰ نے زبر دستی مجھے گوشہ عافیت سے جس کو میں گوشہ عافیت سمجھتا تھا۔باہر نکالا اور کہا کہ میں نے تجھے اپنا رسول بنایا ہے۔جا! اور لوگوں کو مخاطب کر جا کے۔اور مخاطب کر ایسے الفاظ میں کہ ساری دنیا تیری مخالف ہو جائے گی، تجھے گالیاں دینے لگے گی۔تیرے قتل کے منصوبے بنا ئیں گے۔تجھ پر