سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 557 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 557

87 لحظہ کے لئے بھی غیر کا خیال انسانی ذہن میں نہ آئے اور ہر وقت اُس کے آستانہ پر انسان جُھکا رہے دُعا کرتے ہوئے ، اس کے بغیر وہ مدد نہیں مل سکتی اور یہ آسان کام نہیں لیکن آسان ہے بھی۔إِلَّا عَلَى الْخَشِعِين جو عاجزی کو اور فروتنی کو اور انکسار کو اور تواضع کو اختیار کرتے ہیں اُن کے لئے صبر اور ہمیشہ دُعا میں مشغول رہنا اور مضبوطی کے ساتھ اتباع وجئی قرآنی کرتے رہنا یہ مشکل نہیں ہے اور یہ جو خشوع ہے ، یہ عاجزی اور انکساری يبالَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُمْ مُّلْقُوا رَبِّهِم اس معرفت کے نتیجہ میں انسان کے دل اور اس کے سینہ میں پیدا ہوتا ہے کہ وہ یقین رکھتے ہیں کہ اَنَّهُمْ مُلْقُوا رَبِّھم کہ اُن کا واسطہ اُن کے خدا سے پڑنا ہے اور وہ یہ شدید خواہش رکھتے ہیں کہ انہیں أَنَّهُمْ مُلْقُوا رَبِّهم وصال الہی حاصل ہو، اس زندگی میں بھی۔اور اس یقین پر قائم ہیں کہ جو بھی فیصلہ ہونا ہے صبر ودعا کے قبول ہو جانے کا، صبر اور استقامت اور اتباع وحی قرآنی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق ، اللہ تعالیٰ انہیں قبول کرتا ہے اپنے فضل اور اپنی رحمت سے یا اُن کے اندر جو بشری کمزوریاں رہ جائیں بد قسمتی سے اللہ تعالیٰ اُن کی وجہ سے اُن کو کہیں رو تو نہیں کر دیتا وَ أَنَّهُمْ إِلَيْهِ رَاجِعُونَ یہ فیصلہ اللہ تعالیٰ نے کرنا ہے یہ خواہش کہ خدا سے زندہ تعلق قائم ہونا چاہئیا ور قائم رہنا چاہئے اور اس حقیقت کی معرفت کہ آخری فیصلہ اللہ نے کرنا ہے اسی کی طرف ہم نے لوٹ کے جانا ہے، اُن کو اس مقام پر لا کھڑا کرتا ہے کہ ہم لاشئی محض ہیں ، ہم کچھ بھی نہیں، نیست ہیں۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی لیے اُمت کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ تم میں سے جو تواضع کرے گا ، عاجزانہ راہوں کو اختیار کرے گا اور اس رنگ میں اختیار کرے گا کہ اللہ تعالیٰ اس کی عاجزی اور فروتنی کو قبول کرلے گا تو رَفَعَهُ اللهُ إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ (يَا السَّابع ) ( کنز العمال اللہ تعالی ساتویں آسمان تک اُسے اُٹھا کے لے جائے گا۔تو جماعت احمدیہ کا بحیثیت جماعت اور افراد جماعت احمدیہ کا انفرادی حیثیت میں جو بنیادی مقام ہے وہ بجز اور فروتنی اور تواضع اور انکساری کا مقام ہے اس کو نہ بھولنا۔اگر تکبر ہو، اگر ریا ہو، اگر اپنے آپ کو کچھ سمجھنے لگ جاؤ، اگر غرور ہو تمہیں اپنے علم پر یا اپنے مال پر یا اپنی دولت پر یا اپنے قبیلہ پر یا اپنی طاقت پر تو مارے گئے تم ایہ جو ہے فروتنی یہ فنا کی شکل اختیار کرتی ہے یعنی اپنا سب کچھ خدا کے حضور پیش کردینا اللہ میں فانی ہو جانایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق میں کھوئے جانا، ایک موت اپنے پر وارد کرنا ایک ایسی موت جو نئی زندگی عطا کرتی ہے اگر قبول ہو جائے وہ موت ( اپنی جان پیش کی ہے خُدا کے حضور ) اگر خدا تعالیٰ اس قربانی کو قبول کر لے تو ایک نئی زندگی آپ کو عطا کرتا ہے جو بڑی پاک ہوتی ہے ، جو بڑی مطہر ہوتی ہے جس پر فرشتے بھی ناز کرتے ہیں ، جسے خدا قبول کرتا ہے اور جسے قبول کر کے اپنی تمام اُن بشارتوں کا وارث بنا دیتا ہے جو قرآن کریم نے مُؤمِنُونَ حَقًّا سچے اور کامل مومنوں کو دی ہیں۔اللہ کرے کہ جماعت کو جماعتی حیثیت میں اور افراد جماعت کو انفرادی حیثیت میں اس عجز وانکسار