سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 518 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 518

48 پیار کو پائیں۔خدا تعالیٰ نے جو فیصلہ کیا ہے وہ تو پورا ہو گا۔ہمیں اپنی اور اپنے بچوں کی اور اپنی نسلوں کی فکر کرنی چاہئے۔اس لئے میں انصار اللہ کو اس طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ وہ ہر جگہ جہاں ایک یا ایک سے زائد انصار پائے جاتے ہیں تربیتی ماحول پیدا کریں اور اپنے گھروں میں، اپنی مساجد میں، اپنے ڈیروں میں اور اپنی بیٹھکوں میں ان باتوں کو دُہرائیں۔اس شکل میں اور اس تفصیل کے ساتھ جو مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمارے سامنے رکھی ہیں اور یہ کوشش کریں کہ اس معرفت کے حصول کے بعد دوسروں کو بھی معرفت سکھائیں۔معرفت ایک تو خود اپنے لئے اُنس اور لگاؤ اور پیار پیدا کرتی ہے یعنی اعلی تعلیم خود اپنے حسن کی طرف کھینچتی ہے لیکن وہ تو ایک ذریعہ ہے، منزل تو نہیں وہ تو ایک راہ ہے خدا تعالیٰ کا پیار دلوں میں پیدا کرنے کے لئے۔پس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو صداقتیں پیش کی ہیں قرآن کریم نے جو ہدایتیں دی ہیں ، وہ ہر ایک کے سامنے حاضر رہنی چاہئیں۔قرآن عظیم میں اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کے متعلق ہمیں جو کچھ بتایا گیا ہے، وہ ہمیں بھول نہیں جانا چاہئے۔اسلام کی شرک سے متر اتعلیم کے ہوتے ہوئے بعض لوگ قبروں پر سجدہ کرتے ہیں۔اسی قسم کی اور بھی بہت سی بدعات ہیں جو مسلمانوں کے اندر گھس آئی ہیں۔انسان اپنے مالک اور اپنے خالق اور اپنے رب کریم اور اپنے خدائے رحمان، رحیم اور مالک یوم الدین کو بھول جاتا ہے اور راہ ہدایت سے بھٹک جاتا ہے۔یہ بڑے فکر کی بات ہے۔پہلوں نے جو غلطی کی، جماعت احمدیہ کو اس غلطی سے محفوظ رہنا چاہئے اسے محفوظ رکھنا چاہئے۔آنے والی نسلوں کے سامنے ایک تربیتی پروگرام کے ماتحت اسلام کی ابدی صداقتوں کو دہراتے چلے جانا چاہئے تا کہ وہ غلطی سے محفوظ رہیں۔انصار اللہ اسلامی صداقتوں کو اجاگر کرنے کے لئے لٹریچر تیار کریں بڑی دیر ہوگئی انصار اللہ سے میں نے باتیں نہیں کیں۔بدلے ہوئے حالات کے تقاضے بھی بڑے اہم ہو گئے ہیں۔ہم ایک نازک دور میں داخل ہو گئے ہیں اس لئے انصار اللہ کو چاہئے کہ وہ با قاعدہ ایک منصوبہ بنائیں۔اس منصوبہ کی تکمیل پر بے شک مہینہ دو مہینے لگائیں لیکن ایک جامع منصوبہ تیار ہو۔اگر ایک خاندان احمدی ہے تو اس ایک خاندان تک بھی قرآن عظیم کی عظیم صداقتیں پہنچ جائیں۔آپس میں تبادلہ خیالات کریں۔باتیں کریں اور سوچیں پہلوں نے اسلامی صداقتوں سے جو کچھ حاصل کیا اس کے متعلق غور کریں اور ان باتوں کو اتنا دُہرائیں، اتناؤ ہرائیں کہ وہ ذہن کا ایک حصہ بن جائیں، انسانی دماغ کا ایک جزو بن جائیں اور کوئی رخنہ باقی نہ رہے کہ جس کے ذریعہ شیطانی وساوس انسان کے دماغ میں داخل ہوسکیں۔امید ہے انصار اللہ اس اہم امر کی طرف توجہ کریں گے اور کوئی ٹھوس پروگرام بنانے سے پہلے مجھ سے مشورہ بھی کر لیں گے۔میں نے ہدایت دی تھی کہ کچھ کتابوں پر مشتمل لٹریچر شائع ہونا چاہئے۔کتابوں میں