سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 510
40 1972 انصار اللہ ، ربوہ کے ہر شہری کے لئے ورزش کا انتظام کروائے حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ نے خطبہ جمعہ 3 مارچ 1972ء میں فرمایا۔" جہاں تک قوت کا تعلق ہے، اس کے بعض پہلو ورزش سے نشو و نما پاتے ہیں۔اس لئے جسمانی ورزش کی طرف توجہ دینا ضروری ہے۔جوان کو بھی اور بوڑھے کو بھی۔( بوڑھا تو میں کسی کو نہیں کہا کرتا اس لئے میں کہوں گا ) جو ان کو بھی اور جوانوں کے جوان یعنی انصار اللہ کو بھی۔مرد کو بھی اور عورت کو بھی اس طرف توجہ دینی چاہئے۔کبھی توجہ ہو جاتی ہے کچھ اور کبھی بھول ہو جاتی ہے بہت سی۔اس لئے چند دن ہوئے بچوں کے ایک اجتماع میں میں نے ایک اعلان کیا تھا۔میں آج اسے دُہرانا چاہتا ہوں کیونکہ یہ ساری جماعت کی ذمہ واری ہے۔میں نے اُس اعلان میں بچوں سے یہ کہا تھا کہ تم ربوہ میں کھیلوں کو منظم کرنے کا کام سنبھالو کیونکہ اس انتظام میں اکثر نوجوان ہی آگے آئیں گے اور ان کو میں نے اس انتظام کی یہ شکل بھی بتائی تھی کہ دو نمائندے تعلیم الاسلام کالج کے ، دو جامعہ احمدیہ کے، دو تعلیم الاسلام ہائی سکول کے، دو خدام الاحمدیہ کے اور دو انصار اللہ کے مل کر سر جوڑیں اور ایسا انتظام کریں کہ ربوہ کا ہر شہری روازنہ ورزش کیا کرے" (خطبات ناصر جلد چہارم صفحہ 70) ستی دکھلانے والے عہد یداران کو عہدیداران رہنے کا کوئی حق نہیں حضور نے خطبہ جمعہ 14 اپریل 1972 ء میں فرمایا۔"پس جن جماعتوں نے اپنا بجٹ پورا کر کے دس فیصدی زائد چندے دینے کی خواہش کو پورا کرنے کی کوشش کی ہے وہاں آپ کو جماعتی نظام یعنی جو عہدیدار ہیں وہ ہر لحاظ سے خصوصا وقت کی قربانی کے لحاظ سے زیادہ تندہی سے کام کرنے والے یا زیادہ وقت دینے والے نظر آئیں گے۔غرض جہاں تک اموال کی قربانی کا سوال ہے خدا تعالیٰ کے فضل سے ساری جماعت آگے بڑھنے کی تمنا، خواہش اور تڑپ رکھتی ہے اسی طرح جہاں تک نظام جماعت کا سوال ہے اکثر جگہ بڑا اچھا نظام قائم ہے۔عہد یداروں کی اکثریت ایسی ہے جو علاوہ دوسری قربانیوں کے اوقات کی قربانی بھی دے رہے ہیں لیکن بعض جگہیں ایسی بھی نظر آتی ہیں۔جہاں باوجود اس کے کہ جماعت کے افراد ہر قسم کی قربانی بشمول اموال کی