سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 423 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 423

سبیل الرشاد جلد دوم 423 قرآنی علوم سیکھنے میں مہارت حاصل کرو مجلس انصاراللہ کراچی سے خطاب سید نا حضرت خلیفہ المسح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے مورخہ ۳۱ اگست ۱۹۸۱ء کو مجلس انصار اللہ کراچی سے جو خطاب فرمایا تھا، اس کا مکمل متن ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔حضور نے فرمایا : ناظم صاحب ضلع مجھے یہ بتائیں کہ انصار اللہ کہتے کسے ہیں؟ یعنی آپ کا پروگرام کیا ہے؟ آپ کیا کرتے ہیں؟ اپنا تعارف کروائیں۔اس پر ناظم صاحب نے اپنی ششما ہی رپورٹ پیش کی تو ( بیوت ) میں انصار کی حاضری کے ذکر پر حضور نے فرمایا۔مسجد میں آکر نماز با جماعت ادا کرنے کا مسئلہ یہ جو ( بیت ) میں آ کر نماز باجماعت ادا کرنے کا مسئلہ ہے۔یہ مسئلہ اس طرح نہیں ہے کہ اگر قریب ترین ( بیت ) ۲۰ میل دُور ہو تو پانچوں نمازیں وہاں جا کر پڑھا کرو۔بالکل یہ مسئلہ نہیں ہے۔پھر کیا مسئلہ ہے۔یہ لاؤڈ سپیکر وغیرہ تو اب نئی چیز میں آگئی ہیں۔ساری دُنیا میں ایک ہی اذ ان سُنانے کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔اور کبھی ممکن بھی ہوسکتی ہے۔خانہ کعبہ کی اذان مغرب کی دی جائے اور دُنیا کے کسی خطہ میں ایسی مسجد بھی ہو تو وہاں صبح کا وقت ہو۔چکر میں ہے نا گولائی میں۔بہت سی احادیث سے پتہ لگتا ہے اور جو صحابہ کرام کا عمل تھا۔اس سے بھی پتہ لگتا ہے کہ مسجد کی وہ دُوری کہ جہاں نماز کے لئے جمع ہونا نماز باجماعت کے لئے ضروری ہے وہ ہے کہ اُس مسجد کی اذان کی آواز وہاں تک پہنچ جائے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ کراچی میں جماعت احمد یہ بکھری ہوئی ہے۔۳۳ حلقے تو ہم نے انتظامی ضرورت کے لئے بنائے ہیں۔نماز با جماعت کے لئے تو ممکن ہے دو سو جگہوں کی ضرورت ہو۔۲۰۰ جگہ میں نے جان بوجھ کے کہا ہے۔۲۰۰ مساجد نہیں کہا یعنی جو ایک خاص گھر اللہ تعالیٰ کا بنایا جاتا ہے۔وَاَنَّ المَسَاجِدَ لِلهِ (الجن: 19)۔اور وہاں نماز کے لئے مسلمان جمع ہوتے ہیں۔اس لئے کہ نماز با جماعت کے لئے اُس قسم کی مسجد کی ضرورت نہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضَ مَسْجِدًا ساری کی ساری زمین اللہ تعالیٰ نے میرے لئے میری امت کے لئے مسجد بنا دی۔تو اتنے فاصلے پر کہ جہاں سے آواز آ جاتی ہے وہاں کوئی