سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 322
سبیل الرشاد جلد دوم 322 سکھائی نہیں گئی ہوگی۔لیکن ہر زمانہ میں خدا کے ایسے مطہر بندے پیدا ہوں گے جو قرآن کریم کی وہ تعلیم جو اُن کے زمانہ کے ساتھ تعلق رکھتی ہے خدا سے سیکھیں گے اور پھر دنیا کو یہ بتائیں گے اور اُن پر ثابت کریں گے کہ خدا نے یہ جو دعویٰ کیا ہے کہ قرآن ، خدا رب العالمین کی طرف سے نازل ہوا ہے اور قیامت تک کے مسائل کو حل کرنے والا اور انسانی ضرورتوں کو پورا کرنے والا ہے، یہ دعویٰ حقیقت پر مبنی ہے۔خدا کے مطہر بندے قرآنی تعلیم کے نئے پہلو خدا سے سیکھ کر لوگوں کو بتائیں گے اور اس بات کو ثابت کر دکھائیں گے کہ واقعی قرآن کریم کا یہ دعویٰ درست ہے کہ وہ تَنْزِيلٌ مِنْ رَّبِّ الْعَلَمِيْنَ ہے۔مہدی کی بعثت کا زمانہ اس زمانہ میں جس میں سے ہم گزر رہے ہیں اور یہ زمانہ شروع ہوا ہے بعثت مہدی ومسیح موعود علیہ السلام سے۔اور یہ زمانہ جس میں قریباً ۸۶-۸۷ سال گزر چکے ہیں اس زمانہ کی روحانی اور اخلاقی ضرورتوں کو اور انسان کی معاشرتی ضرورتوں کو قرآن کریم کی تعلیم کی روشنی میں پورا کرنے کے لئے مہدی آگئے۔اللہ تعالیٰ نے پہلے سے یہ بشارتیں دی تھیں۔اور مہدی علیہ السلام کو بھی کہا کہ عمر دنیا کا جو ایک ہزار سال باقی رہ گیا ہے جس میں سے قریباً ایک صدی ختم ہو رہی ہے۔باقی نوسو اور چند سال رہ گئے ہیں۔اس ایک ہزار سال کے زمانے کے لئے مہدی کو قرآن کریم کی تفسیر سکھائی جائے گی۔مہدی اور مسیح کا زمانہ ایک ہزار سال پر پھیلا ہوا ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خلافت میں یقیناً اور آپ کی کامل اتباع کے نتیجہ میں یقیناً اور عشق اور محبت کی وجہ سے آپ میں فنا ہونے کی وجہ سے یقیناً محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ روحانی جرنیل ایسا ہے جس کے ذریعہ ایک ہزار سال تک کی قرآن کریم کی تفسیر تفصیل کے لحاظ سے یا بیج کے طور پر مہدی کی کتب کے اندر پائی جاتی ہے۔آپ کی تحریروں میں پائی جاتی ہے۔آپ کے الہام اپنے اندر ایسے بیج رکھتے ہیں۔آپ کی جو تحریرات اور کتب ہیں اُن کو دیکھ کر آ دمی حیران ہو جاتا ہے کہ ایک ایک فقرہ ایسا ہے جس پر پوری ایک کتاب لکھی جاسکتی ہے۔یعنی اس کا مضمون بطور بیج کے اس میں موجود ہے۔قرآن کریم ایک کامل کتاب ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قرآن کریم پر کچھ زائد نہیں کیا اور نہ کچھ کم کیا ہے۔اس لئے کہ ہمارا یہ عقیدہ ہے اور یہی ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ قرآن کریم ایک کامل اور مکمل کتاب ہے اس لئے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرآن پر نہ کچھ زائد کیا اور نہ اس میں کچھ کم کیا۔اور نہ کوئی سورۃ الواقعہ آیت ۸۱