سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 240 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 240

240 سبیل الرشاد جلد دوم ریشہ دوانیوں سے مخلصین کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔پہلے ریشہ دوانیاں کرتا ہے پھر انتظار کرتا ہے۔مگر اس کی ریشہ دوانیوں سے مومنین کو وہ نقصان نہیں پہنچتا جو وہ پہنچانا چاہتا ہے۔پھر وہ یہ انتظار کرتا ہے کہ کوئی آسمانی بلا نازل ہو اور ان کو مٹا دے۔چنانچہ انتظار کرتے کرتے تھک جاتا ہے تو پھر وہ دیکھتا ہے کہ معاند اپنی وحشیانہ قوت کے ساتھ مومنین پر حملہ آور ہوا ہے، جسے ہر لحاظ سے برتری حاصل ہے، ہتھیاروں کے لحاظ سے سواریوں کے لحاظ سے، دولت کے لحاظ سے، کھانے پینے کی اشیاء کے لحاظ سے۔چنانچہ اسلام کے ابتدائی دنوں میں مسلمانوں کے خلاف جب اس قسم کے حالات رونما ہوئے تو منافقین نے یہ سمجھا کہ اب یہ مارے گئے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان کی یہ امید بھی پوری نہ ہو گی۔کچھ مومنین اپنی جان کی قربانی ضرور دیں گے۔مومن کو یہ نہیں کہا کہ تم یہ کہو کہ کون سی تلوار ہے جو کسی ایک مومن کی گردن بھی نہیں کاٹ سکتی۔خدا نے کہا گردن مومن کی کٹے گی لیکن اسلام کی گردن نہیں کٹے گی۔کیونکہ اسلام مرنے کے لئے نہیں بلکہ ہمیشہ کے لئے زندہ رہنے کے لئے قائم کیا گیا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ ذہنیت کیوں پیدا ہوتی ہے۔یہاں منافق کی تین نشانیاں جو بیان کی گئی ہیں۔ان پر میں نے غور کیا تو میری توجہ اس طرف پھیری گئی کہ یہ ذہنیت اس وجہ سے پیدا ہوتی ہے کہ مذہب سے عام طور پر اور اسلام سے چونکہ وہ ایک کامل مذہب ہے اور اس نے انسانی زندگی کا کامل احاطہ کیا ہوا ہے۔منافق اسلامی احکام اور ان کی پابندی سے جان چھڑانا چاہتا ہے کیونکہ اسلام صبح تہجد کے وقت تم پر یہ حکم چلاتا ہے، کہتا ہے اٹھو اور دعائیں کرو، یہ فجر کے وقت کہتا ہے کہ نکلو اپنے بستروں سے اور جا کر مسجدوں کو آباد کرو۔پھر ظہر کا وقت ہے پھر عصر کا وقت ہے پھر مغرب کا وقت ہے پھر عشاء کا وقت ہے غرض پانچ وقتوں میں تمہیں اپنے کاموں سے چھڑوا کر گھروں سے باہر نکال کر مساجد کی طرف بھجوا تا ہے۔اس کے علاوہ وہ نوافل ادا کرنے کی بھی ترغیب دلاتا ہے۔وہ مال و دولت کو جائز طریقوں سے کمانے کی اجازت بھی دیتا ہے اور جب ایک انسان ، مرد مومن کما لیتا ہے جس نے اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی گردن کو جھکا دیا ہے تو اس کو اسلام کہتا ہے کہ اب تم کمائے ہوئے مال کی گٹھڑی باندھ لو اور باہر نکل کر دیکھو تمہارے دوسرے بھائی کو اس مال کی ضرورت ہے۔وہ یہ نہیں کہتا کہ یہ سارا مال تیرا ہے اس لئے تو خود ہی اسے کھا لے۔بلکہ وہ اس پر ایک ذمہ داری ڈالتا ہے۔وہ کہتا ہے کہ ایک سائل ہے۔ایک محروم ہے اس کی خدا دا د قوتوں اور استعدادوں کی نشو و نما نہیں ہو رہی۔مثلاً ایک لڑکا ہے جسے پڑھائی کے لئے پیسوں کی ضرورت ہے یا کسی کو توانائی حاصل کرنے کے لئے پیسوں کی ضرورت ہے یا کسی کو اخلاقی روشنی کے لئے پیسوں کی ضرورت ہے اور دولت کی ضرورت ہے۔باہر نکل اور ان میں اپنی جائز ضرورتوں سے