سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 196 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 196

سبیل الرشاد جلد دوم 196 اس وقت انصار اللہ کے اجتماع میں جو چہرے میرے سامنے ہیں ، انہیں دیکھ کر تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سب انصار اللہ کو دوائی ، الموسوم به "مابل ( محافظ اجساد باذن الله ) کی ضرورت پڑ گئی ہے۔( جو میری نظر ظاہری طور پر دیکھ رہی ہے۔واللهُ أَعْلَمُ میرا یہ قیافہ درست ہے یا نہیں ) اس کی رو سے چالیس اور پچپن کی درمیانی عمر کے انصار کم ہیں اور پچپن سے زائد عمر کے انصار زیادہ ہیں۔اس کی ایک وجہ تو یہ ہے (اور یہ خوشی کی بات ہے ، گھبرانے کی نہیں ) کہ پیچھے سے جو نسل آ رہی ہے ، ان کی تعداد زیادہ ہے کیونکہ ہماری رفتار ترقی پہلے سے زیادہ تیز ہورہی ہے۔ہمارے بچوں کی پیدائش کی رفتار بھی زیادہ تیز ہے۔روزانہ کی ڈاک میں جو مجھ سے نام رکھوائے جاتے ہیں وہ بھی دس ، پندرہ کے قریب ہوتے ہیں اور سارے دوست تو مجھ سے نام نہیں رکھواتے۔اس واسطے ہم امید رکھتے ہیں کہ اس سے بہر حال انصار اللہ کی تعداد آئندہ پانچ سات سال میں بڑھ جائے گی۔البتہ بیچ میں وقفہ آیا ہے۔لیکن چونکہ یہ تیزی بہر حال قائم رہنی ہے، اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کے رحم کے ساتھ ، اس واسطے یہ فرق بڑھتا چلا جائے گا۔مسابقت کی روح : ایک اور لحاظ سے نمایاں فرق پیدا ہو گیا ہے۔ایک زمانہ وہ بھی تھا۔آپ میں سے جو بڑی عمر کے دوست ہیں شاید انہیں یاد ہو حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کو کئی خطبے دینے پڑے تھے کہ جو عمر رسیدہ ہیں یعنی خدام کے ماں باپ انہیں خدام الاحمدیہ کو مالی امداد دینی چاہئے۔کیونکہ اس وقت خدام الاحمدیہ کی مالی حالت بہت کمزور تھی۔چنانچہ بڑے لمبے عرصہ تک تو میں نے خدام الاحمدیہ کا بجٹ ہی نہیں بنوایا تھا۔غالباً ۱۹۴۲ء کی بات ہے مرزا منور احمد صاحب شہید ( انہوں نے امریکہ میں میدان تبلیغ میں وفات پائی ہے ) کو قائد مال یا جو بھی خدام الاحمدیہ میں اس وقت عہدہ کہلاتا تھا۔اس پر مقرر کیا گیا تو دس پندرہ دن کے بعد وہ میرے پاس آگئے اور کہنے لگے کہ آپ نے مجھے اس عہدہ پر مقرر کر دیا ہے۔اور بجٹ کوئی نہیں ہے۔بجٹ تو ضرور ہونا چاہئے۔غرض انہوں نے بڑی لمبی چوڑی تقریر کی۔ان سے رشتہ داری بھی تھی اور وہ میرے بے تکلف ساتھی بھی تھے۔میں ان کی بات سنتا رہا۔جب وہ اپنی بات ختم کر چکے تو میں نے انہیں کہا کہ تم پچھلے آٹھ دس مہینے کی اصل آمد اور خرچ کا گوشوارہ بنالا ؤ پھر میں تمہاری بات کا جواب دوں گا۔دوسرے دن وہ مغرب کے قریب پہنچے اور آ کر کہنے لگے۔مجھے سمجھ آ گئی۔میں نے کہا کیا سمجھ آئی۔کہنے لگے میں نے جب گوشوارہ بنایا تو شکل یہ بنی کہ جس مہینے خدام الاحمدیہ کو خرچ کرنا پڑا چار سور و پیہ تو اس مہینے خدام الاحمدیہ کی کم و بیش ( پانچ دس روپے کا فرق کوئی ایسی بات نہیں ) چارسو مہتمم مال