سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 126 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 126

126 سبیل الرشاد جلد دوم کے تخت پر بیٹھے ہوئے ہیں۔اس صاحب عظمت و جلال کے سلاسل اور غلامی کے طوق جو ہیں نہ وہ ہماری گردنوں سے ٹوٹیں اور نہ وہ ہمارے ماحول سے دور ہوں بلکہ ہمارے بچے ، ہمارے بھائی ، ہماری عورتیں ، ہمارے ساتھ تعلق رکھنے والے ، ہمارے خادم اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں خادم دیئے ہیں۔خادم تو دراصل کوئی نہیں۔ہم میں سے ہر ایک ہی خادم ہے۔بہر حال جس طرح بھی دنیا ان کو یاد کرتی ہے وہ ہمارے اثر کے نیچے ہیں۔اُن کے دلوں میں حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت پیدا کرنی چاہئے اور انہیں اس یقین پر قائم کرنا چاہئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت ہی میں اللہ تعالیٰ کی محبت ہے۔جو آدمی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ مقام نہیں دیتا اور آپ کی یہ عظمت نہیں سمجھتا ، آپ کے لئے اس جلال کو تسلیم نہیں کرتا جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کیا ہے تو ایسے شخص کے لئے موت اور ہلاکت مقدر ہے۔بڑی ذمہ داری ہے جو اس مقام محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وجہ سے ہمارے کندھوں پر ڈالی گئی ہے۔لیکن یہ عظیم بادشاہ ہمیں دو اور پیرایوں میں بھی نظر آتا ہے۔ایک پیرا یہ آپ کے محسن اعظم ہونے کا ہے جس کو ہم انتہائی طور خدمت گزار کا نام بھی دے سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر بھی قرآن کریم میں فرمایا ہے۔فرماتا ہے: فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ عَلَى أَثَارِهِمْ إِنْ لَمْ يُؤْمِنُوْا بِهَذَا الْحَدِيثِ أَسَفًا۔اگر وہ اس عظیم الشان کلام پر ایمان نہ لائیں تو شاید تو ان کے غم میں شدت افسوس کی وجہ سے اور عظیم مجاہدہ کے نتیجہ میں اپنی جان کو ہلاکت میں ڈال دے۔فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرَاتٍ ) اس میں اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو بتایا کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں تمہارے لئے محبت اور احسان کے اس قدر جذبات پائے جاتے ہیں کہ آپ کو کوئی لمحہ کل نہیں۔ہر وقت آپ اس فکر میں رہتے ہیں کہ ہر حاجت مند کی حاجت کو پورا کیا جائے اور سب سے اہم اور ضروری تو روحانی حاجتیں ہیں اور روحانی حاجتوں کو پورا نہیں کیا جا سکتا جب تک انسان کے دل میں ایمانی بشاشت پیدا نہ ہو۔پس آپ جسے دیکھتے کہ میں تو لوگوں کو خدائے واحد و یگانہ کی طرف بلاتا ہوں لیکن یہ لوگ میری آواز کی طرف توجہ نہیں کرتے اور اس طرح اپنے لئے دوزخ کے سامان پیدا کر رہے ہیں تو کتنی درد پیدا ہوتی تھی آپ کے دل میں۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ ان احسان فراموشوں پر احسان کرنے کی کوشش سورۃ الکہف آیت ۷ سورہ فاطر آیت ۹