سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 125
125 سبیل الرشاد جلد دوم کے بہت قریب آچکے ہیں اور دوسری طرف ہماری وہ نسل جو احمدیت میں پیدا ہوئی ہے وہ احمدیت کی قدر و قیمت کو کماحقہ نہیں پہچانتی۔ان کی ذمہ داری بھی بطور راعی ہونے کے ہمارے کندھوں پر ہے۔یہ دونوں ذمہ داریاں بڑی عظیم ہیں۔ان دونوں ذمہ داریوں کو نیا ہے بغیر ہم اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی خوشنودی کو حاصل نہیں کر سکتے۔یہ بڑا ہی خوف کا مقام ہے۔ہم میں سے ہر ایک کو اللہ تعالیٰ کے حضور گڑ گڑاتے رہنا چاہئے کہ اے خدا! ایک مشکل کام تو نے ہمارے سپر د کر دیا۔ایک تنگ راہ ہے جس میں سے گزرنے کا ارشاد ہوا ہے۔ہمارے دل حاضر ، ہماری جانیں حاضر ! لیکن بسا اوقات ہمارے جسم ہمارا ساتھ نہیں دیتے۔بسا اوقات ہمارے ماحول کے اثرات ہمیں اپنی طرف متوجہ کر لیتے ہیں۔بسا اوقات شیطانی وساوس ہمارے دلوں کو کریدنے لگتے ہیں اور ہمیں تیری یاد سے غافل کر دیتے ہیں اور تیری طرف سے عائد ہونے والی ذمہ داریوں کو بھلا دیتے ہیں۔ہم تیرے کمزور بندے ہیں اگر تو ہماری انگلی پکڑ کر نہیں چلائے گا تو ہم کامیابی کی اس شاہراہ پر بشاشت کے ساتھ آگے ہی آگے نہیں بڑھ سکیں گے۔پس اے ہمارے آقا ! ہماری کوتاہیوں پر نظر نہ کر ، ہماری غفلتوں کو نظر انداز کر دے، آگے بڑھ اور ہمارے ہاتھ کو پکڑ اور تو جس منزل تک ہمیں پہنچانا چاہتا ہے وہاں تک ہمیں خود لے جا۔جو شخص عذاب کی ماہیت اور کیفیت سے واقف ہی نہیں وہ تو بے ڈر ہوتا ہے لیکن جو شخص اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کے جلال کو پہچانتا ہے اور جس کے دل میں حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت پیدا ہو جاتی ہے اور آپ کی عزت واحترام کا عرفان اُسے حاصل ہو جاتا ہے یا جسے اس بات کا یہ علم ہوتا ہے کہ اگر میں اپنے رب سے ذرا بھی دور ہوا یا میری محبت اور میری غلامی میں ذرا بھی فرق آیا تو خدا تعالیٰ کے قہر کا جلوہ مجھے ہلاک اور نیست و نابود کر ڈالے گا۔وہ شخص ان حالات میں کیسے اطمینان پاسکتا ہے۔پس جہاں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جیسا عظیم سردار اور بادشاہوں کا بادشاہ ہمیں ملا ہے وہاں ہم پر جو ذمہ داریاں ڈالی گئی ہیں وہ بھی معمولی نہیں۔ہم میں سے ہر ایک کو اسی شہنشاہ نے راعی قرار دیا ہے۔اور ہم پر یہ ذمہ داری ڈالی ہے کہ جس جس حلقہ میں تمہارا اثر و رسوخ ہے اس حلقہ کے متعلق تم ذمہ دار ہو کہ میری محبت کی زنجیریں کٹنے نہ پائیں۔میرے حسن واحسان کا جو طوق گردنوں میں ہے وہ گردنیں اس سے منگی نظر نہ آئیں کیونکہ اس ننگ میں شیطان کی تصویر نظر آئے گی۔اس وقت میں اپنے دوستوں اور بھائیوں کو اس طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو عظیم مقام حاصل ہوا ہے۔جس کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ وہ خدائے واحد و یگانہ کی دائیں طرف عظمت و جلال