سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 121
سبیل الرشاد جلد دوم 121 اور تمہاری بھلائی اسی میں مضمر ہے کہ آواز میں نہ دیا کرو بلکہ انتظار کیا کر و جب آپ باہر تشریف لائیں تو پھر ادب سے اپنامد عابیان کیا کرو اور اپنی حاجت پیش کیا کرو۔اس قسم کی اور بہت سی آیات ہیں جن میں چھوٹی چھوٹی باتوں میں اس طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقام اور آپ کی عزت کا اور آپ کے احترام کا خیال رکھنا ہے اس لئے کہ کسی ماں نے ایسا بچہ نہیں جنا جو پیدا کرنے والے رب کی نگاہ میں اتنا محبوب ہو جتنا آپ ہیں اور جس کو اس قدراختیار اور قدرت اور بادشاہت عطا کی ہو جس قدر کہ آپ کو عطا کی گئی ہے۔ان تفاصیل کے علاوہ اصولی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کو بڑی وضاحت کے ساتھ اور بڑے زور کے ساتھ اس آیہ کریمہ میں بیان فرمایا گیا ہے۔ط قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمُ * وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ قُلْ أَطِيْعُوا اللَّهَ وَالرَّسُوْلَ ، فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْكَفِرِينَ ) اللہ تعالیٰ نے انسان کو ان آیات میں اس طرف متوجہ کیا کہ تمہاری فطرت میں میں نے اپنی محبت کا خمیر رکھا ہے۔اور تم جانو یا نہ جانو۔تمہارا وجود اور تمہاری روح جو ہے وہ اس تڑپ میں ہے کہ کسی طرح پیدا کرنے والے رب کے ساتھ اس کا زندہ اور حقیقی تعلق پیدا ہو جائے۔لوگ اپنے پیدا کرنے والے رب کے محبوب بن جائیں۔اس فطرتی تقاضا کو پورا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ سامان پیدا کیا ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمہارے اندر مبعوث کر دیا ہے اگر تم اللہ تعالیٰ کی محبت اپنے دلوں میں پاتے ہو اور اگر تمہاری فطرت یہ مطالبہ کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ بھی تم سے محبت کرے تو اے میرے پیارے رسول ! تو ان سے کہہ دے کہ اس کا ایک ہی ذریعہ ہے کہ میری کامل اتباع کرو اور میری ہر بات مانو اور میری اطاعت کرو۔میرے احکام کے سامنے سرتسلیم خم کر دو اور میری حکومت اور بادشاہت کا جوا اپنی گردنوں پر ڈالو۔اگر تم ایسا کرو گے - يُخبكُمُ الله - تمہاری فطرت کی پکار جو ہے اس کا تقاضا جو ہے وہ پورا ہوگا یعنی اللہ تعالیٰ کی محبت تمہیں حاصل ہو جائے گی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع ، اس کوشش میں یا آپ کی اطاعت کی اس جدو جہد میں اگر کوئی خامی رہ جائے گی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت جو تمہارے دلوں میں ہے اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ اس خامی کو دور کر دے گا 1 سورة آل عمران : ۳۲-۳۳