سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 73
73 سبیل الرشاد جلد دوم پریشانی نے آپ کو کتنا پریشان کیا۔وہ اس پریشانی کے وقت کس قدر پریشان ہوا۔تو وہ دل جو ہر پریشان دل کے ساتھ اسی طرح پریشان ہوا اور جس نے ہر دُ کھ اٹھائے جانے والے بھائی کے ساتھ ویسا ہی دُکھ اٹھا یا اس دل کی کیا کیفیت ہوگی اور دوسری طرف اس شخص کے دل میں یہ خیال بھی پیدا ہوتا ہے کہ لاکھوں آدمی مجھے پیار دے رہے ہیں۔ان لاکھوں کے پیار کا میرا ایک دل کیسے صحیح جواب دے سکے گا۔ہر وقت وہ خوف میں رہتا ہے کہ کہیں کوئی ایسی بات نہ ہو جائے کہ ہر ایک کو پیار کے مقابلہ میں ویسا پیار نہ ملے اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب ہو۔تو ایک طرف وہ جماعت کے ہر فرد کے دُکھوں میں شریک اور اس کی پریشانیوں میں وہ حصہ دار اور دوسری طرف وہ پھر بھی ہر وقت لرزاں اور ترساں کہ اتنے دلوں میں خدا نے جب میرا پیار پیدا کر دیا تو اتنے دلوں کو اس پیار کے مقابلہ میں ویسا ہی پیار جو میرا فرض ہے وہ کیسے میں ادا کروں گا۔میں سمجھتا ہوں یعنی جو میرا ذاتی احساس ہے کہ جو بھی خلفاء گزرے ہیں یقیناً ان کے دلوں کی بھی یہی کیفیت ہو گی۔سب سے زیادہ خوف انکے دلوں میں ہر وقت یہ رہتا ہوگا کہ اس محبت کا جواب جس محبت کے ساتھ ملنا چاہئے وہ میں دے سکوں گا یا نہیں۔اس کے لئے بڑی دعائیں کرتا ہوں۔بڑی عاجزی کرتا ہوں۔اور میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ شروع سے ہی اور پہلے دن سے ہی اللہ تعالیٰ نے میرے دماغ میں یہ ڈالا کہ تم نے دعا ئیں صرف ان لوگوں ہی کے لئے نہیں کرنی جنہوں نے تمہیں دعا کے لئے لکھا ہو یا دعا کیلئے زبانی کہا ہو بلکہ یہ دعا بھی کرو کہ ہر وہ شخص جسے دعا کیلئے لکھنا چاہئے تھا اور اس نے نہیں لکھا یا جس کو ویسے ہی لکھنے کا خیال نہیں آیا یعنی اس پر کوئی الزام نہیں۔وہ کسی مجبوری کی وجہ سے نہیں لکھ سکا۔اے اللہ تعالیٰ تو ان سب کی مرادوں کو پورا کر اور اگر وہ پریشان ہیں تو ان کی پریشانیوں کو دور فرما۔اپنی طرف سے یہ دل یہ کوشش کرتا ہے کہ دونوں طرف کی محبت یکجان اور ایک جسم کی طرح بنی رہے ہمیشہ۔اور چونکہ خلیفہ وقت کا وجود میرے ایمان کے مطابق اور جماعت کا وجود ایک ہی وجود ہے۔اس لئے خلیفہ وقت کو کبھی یہ خیال نہیں آ سکتا کہ وہ اپنی کوئی بزرگی آپ پر قائم کرے۔کوئی بزرگی نہیں۔سب سے زیادہ احساس خدمت اس دل میں پیدا ہوتا ہے اور سب سے زیادہ احساس اپنی بے بضاعتی اور کم مائیگی اور نیستی کا اس کے دل میں پیدا ہوتا ہے۔ایک خادم، ایک خادم آپ لاکھوں کو اللہ تعالیٰ نے دے دیا۔کتنی ذمہ داری اس پر ڈال دی۔اگر آپ کی دعا ئیں اس کے شامل حال نہ ہوں۔اگر آپ کی محبت اُسے ملتی نہ رہے تو وہ اپنی ان ذمہ داریوں کو نہیں نبھا سکتا تو اللہ تعالیٰ نے یہ سامان پیدا کر دیے کہ آپکے دل میں بھی اُس نے محبت پیدا کر دی اور جیسا کہ میں نے بتایا ان دو محبتوں کی آگ کا نتیجہ یہ ہوا کہ دو وجود نہ رہے۔جماعت اور خلیفہ وقت ایک وجود بن گیا۔تو بزرگی کس پر بڑائی اور برتری کس پر۔