سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 53 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 53

سبیل الرشاد جلد دوم 53 سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثالث رحم اللہ تعالی کا فتاحی خطاب فرموده ۱/۲۷ خاء۱۳۸۸ هش ۲۷ اکتو بر ۱۹۶۷ء بمقام احاطه دفاتر مجلس انصار اللہ مرکز یہ ربوہ حضرت خلیفہ مسح الثالث رحم اللہ تعالیجب مٹی پر تشریف فرماہوئے تو فرمایا۔دعا ہے کہ اے ہمارے پیارے رب ! تو نے محض اپنے فضل سے اس بات کی توفیق دی ہے کہ ہم تیرے اس پیارے بندے، تیرے مسیح کو شناخت کریں اور اس طرح ہمارا شمار تیرے انصار میں ہونے لگا ہے۔تو اپنے فضل سے ایسے سامان پیدا کر کہ ہمیں توفیق ملے کہ ہم واقعی اور حقیقی معنے میں تیرے انصار بن جائیں۔اور تیری مدداور تیری الفت ہمیشہ ہمارے شامل حال رہے۔دعا کر لیں۔دعا کے بعد حضور پر نور نے تشہد، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت فرمائی اور فرمایا۔ہمارا یہ دعویٰ ہے اور یہ دعوی حقیقتا تو ہر احمدی کا ہے۔لیکن حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جماعت احمدیہ میں بڑی اور پختہ عمر والوں کی تنظیم کو قائم کر کے اس کا نام بھی انصار اللہ رکھا تا کہ دُہرا احساس اس عمر میں پیدا ہو کہ ہما را مقام اس دنیا میں انصار اللہ کا مقام ہے۔تو ہمارا یہ دعویٰ ہے کہ ہم انصار اللہ ہیں۔یہ دعوی کوئی معمولی دعوی نہیں ہے بلکہ بڑی ہی اہمیت کا حامل اور بڑی ہی ذمہ داریوں کا حامل یہ دعویٰ ہے۔جو لوگ حقیقی معنی میں اللہ کے انصار بن جائیں۔ان کی شناخت قرآن کریم نے بتائی ہے اور وہ یہ ہے کہ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَنصَرُوا اللهَ يَنْصُرُكُمْ وَيُتَيْتُ أَقْدَامَكُمْ اگر تم حقیقی معنی میں اللہ کے انصار بن جاؤ گے۔تو اسکے نتیجہ میں دو باتیں ظاہر ہوں گی۔ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کو آسمانوں سے اترے گا اور اتر تارہے گا۔اور دوسرے یہ کہ ایک دفعہ حقیقی معنے میں اس کے انصار بن جانے کے بعد تمہاری ثبات قدم میں کوئی لغزش پیدا نہ ہوگی۔اور تم ہمیشہ ہر آن اپنے فعل، اپنے عمل، اپنے قول سے یہ ثابت کرتے رہو گے کہ واقع میں تم اس کے انصار ہو۔اللہ تعالیٰ کی مددکئی رنگ میں ظاہر ہوتی ہے۔جب ہم مصیبتوں میں یا ابتلاؤں میں یا دُکھوں میں مبتلا ہوں اور ہم اس کے حضور جھکیں اور گڑگڑائیں اور عاجزی کریں اور زاری کریں تو وہ ہماری دعاؤں کو سنتا اور اپنی مددکو ہم پر نازل کرتا ، اور ہمارے دُکھوں اور پر یشانیوں کو دور کرتا ہے۔یہ ایک طریق ہے 1 سوره محمد آیت ۸