سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 41 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 41

41 سبیل الرشاد جلد دوم ہیں آپ۔احمق ہیں پورے اگر آپ نے انصار اللہ کی ذمہ واریوں کو نباہ کر جماعت کی ذمہ داریوں کو نہیں نباہنا ہے۔اور اس بات پر راضی ہو جانا ہے کہ ہم نے انصار اللہ کی ذمہ واریاں نباہ لی ہیں۔ہمیں کچھ اور کرنے کی ضرورت نہیں۔تو میں سمجھتا ہوں کہ آپ جیسا بیوقوف کوئی نہیں کیونکہ جس کام کے لئے آپ کو تیار کیا گیا تھا اگر واقعی میں آپ تیار ہو گئے تو وہ کام ہونا چاہئے۔اس کی مثال ایسی ہی ہے کہ گلاس یہ کہے کہ مجھے ریت کے ذروں سے تم نے اکٹھا کیا اور بھٹی میں تم نے مجھے جلایا اور ایک گلاس بنا دیا۔میری زندگی کا مقصد پورا ہو گیا۔اب پانی بیچ میں ڈال کے میں کسی کو پینے نہیں دوں گا۔کیونکہ جو کچھ میں نے حاصل کرنا تھا وہ کر لیا۔وہ گلاس انسان کے کس کام کا اور اس گلاس نے اپنے وجود کا مقصد پہلے حاصل کر لیا۔اپنی قوم کو بھی چھوڑا - ریت کے ذروں سے شیشے کے ذرے علیحدہ ہوئے۔اپنے آرام کو بھی چھوڑا کہ بھٹی میں اسے جلنا پڑا اور پھر وہ نہ انسان کے کام آیا اور نہ اس کے وجود کا مقصد پورا ہوا۔تو اس قسم کے کانچ کے گلاس بنے کی کوشش نہ کریں بلکہ وہ برتن بننے کی کوشش کریں جو خدا تعالیٰ کی محبت سے لبریز ہو۔وہ آلہ نہیں جو محبت کے ساتھ خدا تعالیٰ اپنے ہاتھ میں لے اور اپنا کام جو وہ کرنا چاہتا ہے اس آلہ سے لے- اگر آپ یہ کر لیں تو آپ نے اپنی زندگی کا مقصد پالیا۔اور اگر آپ یہ سمجھیں کہ ہم خدام الاحمدیہ کے ممبر ہیں۔اور ہم نے اپنے دائرہ میں اپنی محدود ذمہ واریوں کو نباہ لیا ہے۔یا اگر آپ یہ سمجھیں کہ ہم انصار اللہ سے تعلق رکھنے والے ہیں اور جماعت کے بزرگ کہلاتے ہیں۔لیکن ہماری ذمہ واری اتنی ہے کہ انصار اللہ کے محدود اور معین اور چھوٹے سے دائرہ کے اندر جو کچھ ہم نے کرنا ہے وہی کرنا ہے۔اس کے علاوہ اور کچھ نہیں کرنا ہے۔اور وہ ہم نے کر لیا ہے۔تو آپ کا وجود ایک ناقص وجود ہے۔وہ اس قابل نہیں ہے کہ اس کی حفاظت کے لئے فرشتے آسمان سے نازل ہوں۔وہ وجو دترک کر دیا جاتا ہے۔اس وجود پر شیطان حملہ آور ہوتا ہے۔وہ وجود تو اپنی اور دنیا کی تباہی کا باعث بنتا ہے۔وہ دنیا کو فائدہ پہنچانے کا کبھی باعث نہیں بنا کرتا۔پس جو تربیت کا میدان ہے۔اسے تربیت کا میدان سمجھیں اور اس نیت کے ساتھ ، اس خلوص کے ساتھ ، اس جذ بہ کے ساتھ تربیت حاصل کریں تا احمدی کی حیثیت سے جو ذمہ واری آپ پر پڑتی ہے۔آپ اس کو ادا کر سکیں۔اور کما حقہ ادا کر سکیں۔اور اس طریق پر آپ ادا کر سکیں کہ آپ کا رب آپ پر خوش ہو۔تا آپ اس کی رضاء کی جنتوں میں داخل ہونے والے ہوں۔لیکن اگر آپ نے اس محدود دائرہ کے اندر کام کر کے کچھ سیکھا۔تو تکبر اور نخوت کا سبق سیکھا۔اگر آپ نے کچھ سیکھا تو اباء اور استکبار کا سبق سیکھا۔تو لعنت ہے آپ کی اس تنظیم پر ، اور لعنت ہے آپ کے اس سبق پر جو آپ نے حاصل کیا۔