سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 40
سبیل الرشاد جلد دوم ذیلی تنظیموں کو جماعتی ذمہ داریوں کے نباہنے کے لئے تیار کرنا ہے 40 تو درجہ بدرجہ ہم نے سوچا تھا کہ ہم چھوٹے دائرہ کے اندر کچھ بنیں گے۔اور اس محدود دائرہ کے اندر کچھ عمل کریں گے۔اور ہم اُمید رکھیں گے کہ اس کے نتیجہ میں اس قابل ہو جائیں گے کہ جو جماعت کے فرائض ہیں اُن کو بہتر طریق پر نبھا سکیں۔لیکن ہم نے کیا یہ! کہ خدام الاحمدیہ نے خدام الاحمدیہ کے دائرہ عمل میں ، انصار اللہ نے انصار اللہ کے دائرہ عمل میں (عمل کے میدان میں ) وہ کچھ بھی نہ کیا جو محدود - دائرہ کے اندر ان کو تربیت کے طور پر کرنا چاہیئے تھا۔تیار کرنا تھا بڑی ذمہ داریوں کو نبا ھنے کے لئے اور اس کا نتیجہ ایک اور بھی نکلا اور وہ یہ کہ بعض بڑی عمر کے ہمارے دوست اور بعض نوجوان بچے اپنے دائرہ میں کام کرنے کے بعد سمجھنے لگ گئے کہ احمدیت کے سب فرائض ہم نے پورے کر دیئے۔اب کوئی اور ذمہ داری باقی نہیں رہتی کہ جس کو کرنے کی ہمیں ضرورت ہو۔یعنی جو چیز ان کو تربیت دے کر اس قابل بنانے کے لئے جاری کی گئی تھی کہ وہ جماعت کی ذمہ داریوں کو سمجھنے لگیں اور نبا ھنے کے قابل ہو جائیں انہوں نے اس کو ہی سب کچھ سمجھ لیا۔اور اس چیز کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ وہ وسیع دائرہ میں داخل ہو کر وسیع ذمہ داریوں کو پورے انہماک اور پوری توجہ اور پوری تندہی اور پوری قربانی کے ساتھ ادا کریں۔یہ چونکہ میرا پہلا موقع ہے۔انتخاب خلافت کے بعد انصار کو مخاطب کرنے کا اس لئے آج میں اس پہلے موقع پر آپ کو اچھی طرح جھنجھوڑ دینا چاہتا ہوں کہ آپ کا کام، کام کرنا ہے۔نہ باتیں کرنا ، اور نہ باتیں سننا آپ کا کام ہے۔اسی طرح جس طرح خدام الاحمدیہ کا کام، کام کرنا ہے۔باتیں سننا اور باتیں بنانا اور باتیں کرنا نہیں ہے۔آپ اپنے دائرہ میں پورے انہماک کے ساتھ ، پورے حسن اور خوبی کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو نبھا ئیں۔اور دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اس کے نتیجہ میں اس بات کی تو فیق عطا کرے کہ جو جماعتی ذمہ واریاں اس نے آپ کے کندھوں پر ڈالی ہیں۔ان کو ادا کر سکیں۔اور اس ادا ئیگی کے نتیجہ میں آپ اسے خوش کر سکیں۔اگر آپ خدام، خدام الاحمدیہ اگر آپ انصار، انصار اللہ کی ذمہ واریوں کو ادا کرتے ہیں لیکن جماعتی ذمہ واریوں سے عدم تو جہی برتتے ہیں تو آپ کا خدا آپ سے خوش کبھی نہ ہوگا۔یہ یاد رکھیں۔ایسا کبھی نہیں کرنا چاہیئے۔کیا کرتے آپ؟ خدام الاحمدیہ کا کام جو ہے وہ فی نفسہ آپ کا کام نہیں ہے۔خدام الاحمدیہ کا کام اس غرض سے لیا جاتا ہے تا جو آپ کی زندگی کا ایک احمدی کی حیثیت میں مقصد ہے۔اس کو پوری طرح پورا کر سکیں آپ۔اگر آپ نے اس مقصد کو حاصل نہیں کرنا ہے تو اس کام کے لئے اپنے وقت کو اور اپنے پیسے کو اور اپنے آرام کو قربان کیوں کر رہے