سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 559 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 559

89 $ 1982 زندگی اور بقاء کے لئے ضروری ہے کہ جانے والوں کی قائم مقام میں ہو حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ نے 22 جنوری 1982ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا۔جوانسان پیدا ہوتا ہے وہ بوڑھا ہو جاتا ہے، کام کے لائق نہیں رہتا یا فوت ہو جاتا ہے اور اپنے رب سے اپنے اعمال کی جزا پاتا ہے لیکن البہی سلسلہ کو جس نے ساری دنیا میں دین الحق کو غالب کرنا ہے ان کے قائم مقام ملتے رہنے چاہئیں، اگر پہلوں سے بڑھ کر نہیں تو کم از کم پہلوں جیسے۔میں نے محسوس کیا ہے کہ کچھ عرصہ سے جماعت ( یہ جماعت کی اجتماعی زندگی کا تقاضا ہے ) اس طرف توجہ نہیں دے رہی اور میں نے محسوس کیا ہے کہ اگر ہم نے فوری اس طرف توجہ نہ دی تو ایک بڑا خطرناک دھکا بھی لگ سکتا ہے، نقصان بھی پہنچ سکتا ہے سلسلہ عالیہ احمدیہ کو۔عارضی طور پر ہوگا کیونکہ خدا تعالیٰ کا منصوبہ نا کام نہیں ہوا کرتا۔کمزوری دکھانے والے ایک حصہ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اپنے ماحول میں۔جو بات دس سال میں ہونی ہے وہ پندرہ سال میں ہو جائے گی ، ہیں سال میں ہو جائے گی لیکن کامیاب تو خدا تعالیٰ کا منصوبہ ہی ہوگا اور آج منصوبہ یہ ہے کہ سلسلہ عالیہ احمد یہ جسے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عاشق نے قائم کیا جس کی محبت حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں اس قدر تھی کہ قیامت تک کے علماء اور بڑے بڑے بزرگ اور آپ سے فیض حاصل کر کے روحانی رفعتوں کو حاصل کرنے والے وہ کروڑوں جو آپ کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں پیدا ہوئے ان میں سے اس ایک کو چنا اور اسے سلام پہنچایا اپنا۔( خطبات ناصر جلد نهم صفحہ 371) اپنے نفسوں کو اور اپنے اہل کو خدا تعالیٰ کے غضب سے بچاؤ حضور نے 5 مارچ 1982ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا۔قرآن کریم بھرا ہوا ہے انذار سے اور تبشیر سے۔اس وقت میں اس کی ایک مثال دینا چاہتا ہوں۔سورۃ التحریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا (التحریم: 7) اپنے نفسوں کو اور اپنے اہل کو خدا تعالیٰ کے غضب کی آگ سے بچانے کی کوشش کرو۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اھلِیكُم کا ایک انذاری پہلو یہ بھی بتایا کہ بعض دفعہ ایک انسان خود تو ایمان رکھتا