سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 555 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 555

85 متعلق میں نے پہلے بات کی تھی جو یہاں کے رہنے والے ہیں۔ایک کے متعلق میں اب بات کر رہا ہوں جن کا تعلق باہر سے ہے۔اور دوسری بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس وقت نوع انسانی ایک خطرناک، ایک ہولناک ہلاکت کی طرف حرکت کر رہی ہے۔اس قسم کی خطرناک حرکت ہے جو انسان کو تباہ کرنے والی ہے اور عقل میں نہیں ان کے آ رہی بات کہ ہم کیا کر رہے ہیں۔اس واسطے تمام احمدی یہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ انسان کو سمجھ اور فراست عطا کرے کہ اپنے ہی ہاتھ سے اپنی ہلاکت کے سامان نہ کرے اور خدا تعالیٰ ان کو اس عظیم ہلاکت سے جس کے متعلق پیش گوئیاں بھی ہیں بچالے۔ہرا نذاری پیشگوئی دعا اور صدقہ کے ساتھ ٹل جاتی ہے۔ان کو تو سمجھ نہیں، انہوں نے اپنے لئے دعا نہیں کرنی۔مجھے اور آپ کو تو سمجھ ہے۔ہمیں ان کے لئے دعا کرنی چاہئے اور صدقہ دینا چاہیے۔اجتماعات پر صدقہ دینا چاہیے نوع انسانی کو ہلاکت سے بچانے کے لئے اپنی طاقت کے مطابق ہم صدقہ دیں گے اجتماعات کے موقع پر لجنہ اور خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ یہ تین انتظامات ۲۱۔۲۱ بکروں کی قربانی نوع انسان کو ہلاکت سے بچانے کے لئے ان اجتماعات کے موقع پر دیں گے، انشاء اللہ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ذمہ واریوں کے سمجھنے کی توفیق عطا کرے۔اور اللہ تعالیٰ فضل کرے انسان پر کہ وہ بہکا ہوا انسان اندھیروں میں بھٹکنے والا انسان اس روشنی میں واپس آ جائے جو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نوع انسانی کی بھلائی اور ترقیات کے لئے آسمانوں سے لے کر آئے ہیں۔آمین خطبات ناصر جلد نهم صفحہ 253-260) جماعت احمدیہ کا بنیادی مقام عجز وانکسار کا مقام ہے اس لحاظ سے بڑا اہم جمعہ ہے کہ اس جمعہ ہی سے میں اس مضمون کو شروع کر دیا کرتا ہوں جو خدام الاحمدیہ میں میں نے بیان کرنا ہوتا ہے اور جو مضمون خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ کے اجتماعات کی تقاریر میں میں نے بیان کرنا ہے وہ اس لئے بہت اہم ہے کہ یہ اجتماعات پندرہویں صدی ہجری کے پہلے اجتماعات ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ پندرھویں صدی ہجری کی اہمیت کے پیش نظر جو اہم ذمہ داریاں ہیں اُس کے مطابق جس قسم کی ہمیں زندگی گزارنی چاہئیا اس کے متعلق میں جماعت کو کچھ کہوں۔کیونکہ ابھی جمعہ کے بعد اجتماع بھی ہے میں بیماری کی وجہ سے ضعف بھی محسوس کر رہا ہوں ، ہم نمازیں انشاء اللہ جمع کریں گے۔اس لیے مختصر ا ایک ضروری بات کہوں گا کہ جو بنیا دبنتی ہے ساری اسلامی تعلیم