سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 551
81 تیاری ایک ایسے استعمال کی تھی کہ اپنے سے کہیں زیادہ تعداد میں دشمن اور ہر دو گھنٹے بعد تازہ دم فوج کا مقابلہ، کبھی پانچ گنا زیادہ ان کی فوج انہی اٹھارہ ہزار کے مقابلہ میں جس کا مطلب یہ تھا کہ قریباً ڈیڑھ گھنٹے کے بعد تازہ دم فوج سامنے آگئی۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم کہتے ہو کہ تڑپ بڑی تھی، ہم بھی پکے مومن ہیں مگر مجبوریاں ایسی آگئیں کوئی بچہ بیمار ہوگیا۔بہانہ جو طبیعت، گھر خطرے میں پڑ گیا، یہ ہوگیا وہ ہو گیا ورنہ پیچھے رہ نہ جاتے۔خدا کہتا ہے تم جھوٹ بولتے ہو اور دلیل یہ کہ اگر تمہیں خواہش ہوتی جہاد پر نکلنے کی تو اس کے لئے ہر ممکن تیاری کی ہوتی۔نہ تم نے اسلحہ پر مال خرچ کیا، نہ تم نے اسلحہ چلانے کی مشق کی ضرورت کے مطابق مشق مشق اتنی کہ، مثلاً میں نے تیراندازی کا نام لیا ابھی، ایک بار جب خالد بن ولید ہی قیصر کی فوجوں کے خلاف لڑ رہے تھے تو دمشق کا محاصرہ کیا ہوا تھا۔قیصر کی فوج کا جو کمانڈر تھا اس نے جہالت سے مسلمان پر رعب ڈالنے کے لئے ، یہ نہ سمجھتے ہوئے کہ مسلمان پر رعب نہیں ڈالا جا سکتا کیونکہ وہ تو صرف خدا سے ڈرتا ہے، یہ منصوبہ بنایا کہ نوجوان لڑکیوں اور راہبوں ، پادریوں کو فوجی لباس پہنا کے اور ہاتھ میں نیزے دے کر اور تلواریں لٹکا کے فصیل کے او پر کھڑا کر دیا۔کئی ہزار مردوزن کو۔خالد بن ولید کی دور بین آنکھ مومنانہ فراست رکھنے والی تھی۔انہوں نے کہا اچھا میرے ساتھ مذاق کر رہے ہو تم۔آپ نے اپنی پیادہ فوج کو پیچھے کیا اور تیراندازوں کو آگے بلایا اور تیر اندازوں کو یہ حکم دیا کہ تم یہ جو سامنے تمہارے کھڑے ہیں ہم پر رعب ڈالنے کے لئے ان میں سے ایک ہزار کی آنکھ نکال دو تیر سے۔اور گھنٹے ڈیڑھ گھنٹے میں ان تیراندازوں نے ایک ہزار کی آنکھ میں نشانہ ٹھیک بٹھایا اور آنکھ نکال دی۔اس کے مقابلہ میں مشہور ہے کہ ایک بادشاہ بیوقوف تھا وہ سمجھتا تھا میں بڑا بہادر، ماہرفن ہوں، جنگ جو ہوں تو مشق کر رہا تھا اور کوئی نشانہ بھی اس کا بلز آئی (Bull's eye) پر نشانہ نہ بیٹھتا تھا۔کوئی دس گز ادھر پڑتا تھا کوئی دس گزا دھر پڑتا تھا۔کوئی راہی گذر رہا تھا اس نے سوچا بادشاہ سے مذاق کر رہے ہیں سارے۔جہاں وہ نشانہ مار رہا تھا وہ وہاں کھڑا ہو گیا جائے۔تو حواری خوشامد خورے کہنے لگے نہ نہ پرے ہٹ پرے ہٹ مرنا چاہتا ہے؟ بادشاہ سلامت تیراندازی کر رہے ہیں۔اس نے کہا صرف یہ جگہ محفوظ ہے جہاں تیر نہیں لگ سکتا باقی دائیں بھی لگ رہا ہے، بائیں بھی لگ رہا ہے او پر بھی نکل رہا ہے ورے بھی پڑ رہا ہے، اس جگہ پر نہیں آ رہا۔ایک وہ تیرانداز تھا اور ایک یہ تیرانداز کہ ایک ہزار انسان کی آنکھ میں نشانہ مارا ٹھیک اور وہ جوسپہ سالار نے رعب ڈالنا چاہا تھا مسلمانوں پر وہ ناکام ہو گیا۔وہ سب بھاگے اس طرف سے جہاں ان پر تیر پڑ رہے تھے اور شہر کے دوسری طرف جاکے اور دروازہ کھول کے باہر نکل گئے اور سارے شہر میں شور مچادیا کہ مسلمانوں نے ہماری آنکھیں نکال دی ہیں۔خدا کہتا ہے۔وَلَوْ أَرَادُوا الْخُرُوجَ لَا عَدُّوالَهُ عُدَّةٌ اور