سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 37 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 37

37 سبیل الرشاد جلد دوم صحابہ کی طرح ان کا بھی یہی حال تھا کہ وہ اپنے رب سے خوش تھے اور ان کا رب ان سے راضی تھا۔مگر جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ الہی جماعتوں کے لئے بعض فتنے اور امتحان بھی پیدا کئے جاتے ہیں۔اور مومن کا یہ کام ہے کہ وہ اپنے مقام فنا نیستی اور لاشئی اور محض مسلوب ہونے کی حقیقت کو ہمیشہ یادر کھے۔اور کھولے نہیں۔اور جب کبھی بھی اس قسم کے فتنے پیدا ہوں اور جہاں بھی اس قسم کے فتنے پیدا ہوں وہاں دلیری کے ساتھ ان فتنوں کو ان طریقوں پر کچلیں جو اسلام نے اور قرآن کریم نے ہمیں بتائے ہیں اور ڈرے نہیں کیونکہ خدا تعالیٰ نے انہیں ایسی ڈھال عطا فرمائی ہے جو ان کی حفاظت کرنے والی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں یہ توفیق عطا کرے کہ ہم ہمیشہ اس کی رحمت کے سایہ میں زندگی گزارنے والے ہوں۔اور خدا تعالیٰ محض اپنے فضل سے ایسے سامان پیدا کر دے کہ ہم جو انتہائی طور پر کمزور ہیں۔ہم جو انتہائی طور پر گنہگار ہیں ، ہم جو انتہائی طور پر بے طاقت ہیں ، ہم جو انتہائی طور پر لاعلم ہیں ، وہ اپنی قوتوں اور طاقتوں اور علم اور نور سے ہماری مدد کرتا رہے اور ہمیں اس مقصد میں کامیاب کرے۔جس مقصد کے لئے اس نے ہمیں انفرادی طور پر اور جس مقصد کے لئے اس نے جماعت کو بحیثیت جماعت پیدا کیا ہے۔اور قائم کیا ہے اور کھڑا کیا ہے۔کہ اس کے فضلوں اور رحمتوں کے بغیر ہم میں اپنی کوئی طاقت نہیں ہے۔آب انصار اللہ کا میں عہد دُہراؤں گا۔آپ میرے ساتھ شامل ہوں۔اور پھر دعا ہو گی۔میری دُعا ہے کہ جہاں بھی ہوں ، جہاں بھی آپ رہیں ، حضر میں بھی اور سفر میں بھی ، اللہ تعالیٰ کے فرشتے آپ کے ساتھ ہوں اور خدا تعالیٰ کے ملائکہ آپ کا ساتھ کبھی نہ چھوڑیں۔وہ آپ کے دلوں کی ڈھارس آپ کے خوفوں کو دور کرنے والے، آپ کو حزن سے بچانے والے ، آپ کونور کی راہوں پر چلانے والے، آپ کی انگلی پکڑ کر آپ کو خدا تعالیٰ کے قدموں میں جابٹھانے والے ہوں۔اس کے بعد حضور نے انصار اللہ کا عہد دہرایا۔اور دُعا فرمائی۔روز نامه الفضل جلسہ سالانہ نمبر ۱۹۶۷ ، صفحہ ۷-۱۲)