سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 36
سبیل الرشاد جلد دوم ہے کہ یہ کس حالت میں کہا جاوے گا کہ وہ خدا کا ولی ہے۔انسان انسان کے ساتھ ظاہرداری میں خوشامد کر سکتا ہے اور اس کو خوش کر سکتا ہے۔خواہ دل میں ان باتوں کا کچھ بھی اثر نہ ہو۔ایک شخص کو خیر خواہ کہہ سکتے ہیں۔مگر حقیقت میں معلوم نہیں ہوتا کہ وہ خیر خواہ ہے یا کیا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ تو خوب جانتا ہے کہ اس کی اطاعت و محبت کس رنگ سے ہے۔پس اللہ تعالیٰ کے ساتھ فریب اور دغا نہیں ہوسکتا۔کوئی اس کو دھوکا نہیں دے سکتا۔جب تک بچے اخلاص اور پوری وفاداری کے ساتھ یک رنگ ہو کر خدا تعالیٰ کا نہ بن جا وے کچھ فائدہ نہیں۔“ 36 خلاصہ میری اس تقریر کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ وعدہ فرمایا تھا کہ میں تیرے ذریعہ سے تیرے فیوض کو جاری کر کے اور اس قوت قدسیہ کے اثر کے نتیجہ میں جو میں نے تجھے عطا کی ہے ایک ایسی جماعت پیدا کروں گا جو میرے قرب اور میری رضا کو حاصل کریں گے۔میں ان سے خوش ہوں گا اور وہ مجھ سے راضی ہوں گے۔اور اللہ تعالیٰ نے عملاً ایسی جماعت پیدا کی۔ہم ان کے روحانی رازوں سے تو واقف نہیں۔کیونکہ وہ راز ان کے اور ان کے رب کے درمیان تھے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں سے جو سلوک کیا وہ ہمیں بتا تا ہے کہ واقعتا وہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں اس کے پیارے اور محبوب تھے۔اور یہ وہ لوگ تھے جو ڈر ڈر کر اپنی زندگیوں کو گزارا کرتے تھے۔کیونکہ وہ یہ جانتے تھے کہ ہمیں روحانی رفعت میں سے جتنا حصہ بھی ملا ہے۔وہ ہماری کسی خوبی کے نتیجہ میں نہیں محض اللہ تعالیٰ کے فضل کے طور پر ہے اور ایک رنگ میں بطور مستعار کے ہے۔اور دینے والا جب تک چاہے دیتا رہے اور جب چاہے ہم سے واپس لے لے۔پس ہر آن اور ہر لحظہ وہ خدا تعالیٰ کے حضور جھکتے رہتے اور اپنی مغفرت چاہتے رہتے اور اس سے عاجزانہ دعائیں کرتے رہتے کہ اے خدا ایک دفعہ اپنے قرب اور رضا کی روشنی عطا کرنے کے بعد شیطانی اندھیروں میں ہمیں دھکیل نہ دینا۔اور بہت سے تھے جن کی ان دعاؤں کو اللہ تعالیٰ نے قبول کیا اور ان کا انجام بخیر ہوا۔پھر امت محمدیہ میں یہ سلسلہ جاری رہا۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے صحابہ جیسی ایک جماعت پیدا کی۔اور جیسا کہ اُس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے وعدہ فرمایا تھا۔آپ کے گرد ایسے لوگ اکٹھے ہو گئے۔جنہوں نے واقعتا اور حقیقی معنی میں اپنے پر فنا طاری کی اور اپنا سب کچھ خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان کر دیا۔اور ملفوظات جلد سوم صفحه ۵۹۵