سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 517 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 517

47 $1975 انصار اللہ اپنے ہاں تربیتی ماحول پیدا کریں اور اپنے گھروں میں اسلامی صداقتوں کا ذکر کرتے رہیں حضرت خلیفہ المسیح الثالث رحمہ اللہ نے خطبہ جمعہ 17 جنوری 1975ء میں فرمایا۔اگر ہم خود اپنے نفوس کی اصلاح کر لیں اور اگر ہم یہ کوشش کریں کہ ہمارا ماحول تربیت یافتہ اور اصلاح یافتہ ہو جائے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم ہر وقت اُن صداقتوں کو جو اسلامی عقائد میں پائی جاتی ہیں اور اُن حقیقتوں کو جنہیں قرآنی شریعت نے ہمارے سامنے رکھا ہے اُن کو خود سمجھیں اور اُن کے مطابق اپنی زندگی گزار دیں اور اپنی چھوٹی نسلوں کو، نو جوانوں کو اور نئے آنے والوں کو بھی اسلامی تعلیمات کی صداقتوں اور قرآنی حقائق سے آگاہ کریں بلکہ ان صداقتوں کو حفظ کر دیں اور اُن کی زندگی کا جزو بنا دیں۔تب ہم خود کو جماعتی اجتماعی لحاظ سے اس قابل بنا سکیں گے کہ جو ذمہ داری اگلے تیرہ چودہ سال میں ہم پر پڑنے والی ہے ہم اُسے نباہ سکیں اور اس طرح اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کر سکیں اور اس کی خوشنودی کو پاسکیں۔جو صداقت مثلاً اللہ تعالیٰ اور اس کی صفات کے متعلق اسلام نے ہمیں بتائی ہے، وہ تو ایک عجیب اور حسین تعلیم ہے۔بہت سی حقیقتیں ہیں جو ہم کو بتائی گئی ہیں۔اُن کے عرفان اور معرفت کو قرآن کے ذریعہ ہم نے حاصل کیا مگر انسان یہ دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے کہ کس طرح مسلمانوں کی ایک نسل کے بعد دوسری نسل نے یہ صداقتیں بھلا دیں اور اُن کی طرف توجہ نہیں دی۔یہ کیسے ممکن ہوا؟ لیکن جب ہم اپنی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ عملاً یہ ممکن ہو گیا۔اللہ تعالیٰ کو ماننے والے عملاً بہت سی بدعات کا شکار ہو گئے اور یہ آج کی بات نہیں۔پچھلے چودہ سو سال میں ہزاروں لاکھوں مصلحین نے یہی اعلان کیا کہ صداقتیں تمہیں دی گئیں۔آسمان سے نور تمہارے اوپر نازل ہوا پھر بھی تم اندھیروں میں جا چھپے اور وہ صداقتیں تم سے اوجھل ہوگئیں اور وہ معرفت اور عرفان جاتا رہا۔وہ محبت اور وہ عشق کا ماحول قائم نہ رہا۔ایک طرف اتنی عظیم صداقتیں ہیں۔اتنا عظیم محسن ہے اور دوسری طرف اُن کا نظر سے اوجھل ہو جانا بھی ایک ایسا واقعہ ہے کہ انسانی عقل اس کو تسلیم کرنے کے لئے تیار تو نہیں لیکن انسان کا مشاہدہ بتا تا ہے کہ ایسا واقعہ ہوگیا۔اس لئے یہ بڑے خطرے کی بات ہے کہ ہم جو بڑے ہیں ہم جو انصار اللہ کہلاتے ہیں۔ہم اگر اپنے کام سے غافل ہو گئے اور اگر ہم نے اپنی ذمہ داریاں نہ نبا ہیں تو کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ جو بعد میں آنے والی نسل ہے یا جو ان کے بعد آنے والی نسل ہے وہ کمزوری دکھائے اور اللہ تعالیٰ کے قہر کا مورد بن جائے حالانکہ اُن کو اس لئے پیدا کیا گیا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے