سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 504 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 504

34 آجاتا ہے اور ہمیں وہاں خاموش ہی رہنا پڑتا ہے۔1953ء میں جب کالج پر کئی طرف سے انہوں نے یورش کی تو ایک ایسا گروہ آیا جس نے پتھراؤ کیا۔تعلیم الاسلام کا لج اس وقت لاہور میں ڈی۔اے۔وی کالج کی بلڈنگ میں تھا چنانچہ جب کالج پر پتھراؤ کیا گیا تو ان کے مقابلے میں ہمارے طالبعلموں نے بھی پتھراؤ کیا۔مجھے جب پتہ لگا تو میں بڑا پریشان ہوا کہ انہوں نے احمدیت کی تربیت کے خلاف ایسا کیسے کر دیا؟ دراصل ہمارے کالج کے ہوٹل میں 60 فیصد طالب علم ایسے تھے جو احمدی نہیں تھے۔جب میں نے تحقیق کی تو مجھے پتہ لگا کہ جن لڑکوں نے جوابا پتھراؤ کیا ہے۔ان میں ایک بھی احمدی نہیں تھا لیکن چونکہ وہ ہمارے درمیان رہتے تھے ہمارے طالب علموں کو دیکھتے تھے ہمارے ساتھ ان کا تعلق تھا انہیں یہ پتہ تھا کہ یہ مظلوم جماعت ہے اس لئے ان کو غصہ آ گیا اور جوابی پتھراؤ کیا مگر اس میں احمدی طلبہ ملوث نہیں تھے۔انکوائری کمیشن میں آئی جی انور علی صاحب نے اس بات کو پیش کرایا کہ دیکھیں جی یہ دونوں طرف سے ہو جاتا ہے اس سے زیادہ پیش آ جاتا ہے تعلیم الاسلام کالج پر جب حملہ ہوا تو اندر سے بھی پتھراؤ ہو گیا میرے ساتھی میرے پاس پہنچے اور کہنے لگے کہ آپ کو پتہ ہے کہ اس پتھراؤ میں احمدی طلباء شامل نہیں تھے اس لئے ہماری طرف سے یہ موقف لینا چاہئے کہ یہ غیر احمدی طلباء کا کام ہے میں نے کہا یہ نہیں ہوسکتا جنہوں نے پیار کے ساتھ ہمارا ساتھ دیا ہے ہم ان کے خلاف انکوائری کمیشن میں کچھ نہیں کہیں گے ہمیں وہ بدنام کرتے ہیں تو کرتے رہیں لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ طالب علم جو احمدی نہیں تھے ان کو اپنے کالج کے لئے جوش اور غیرت آئی اور انہوں نے ہماری خاطر ایک قدم اٹھا یا بے شک وہ ہمارے نزدیک غلط قدم تھا لیکن ان کے نزدیک تو درست تھا اگر ان کا قدم غلط ہے تو باہر سے بھی پتھراؤاندر نہیں آنا چاہئے تھا اور اندر سے بھی باہر پتھر نہیں جانا چاہئے تھا لیکن جنہوں نے ہماری خاطر یہ قدم اٹھایا ہے ہم ان کے خلاف یہ قدم نہیں اٹھائیں گے وہ احمدی نہیں تھے غیر احمدی تھے وہ تو ہمارے ہیں چاہے احمدی ہیں یا نہیں ہماری خاطر انہیں غیرت آئی ہماری خاطر انہیں جوش آیا پس ہمیں فکر یہ رہتا ہے کہ کام کوئی کرے گا اور نام ہمارا بدنام ہوگا ہمارا موقف پیارکا موقف ہے ہم ان کو بدنام نہیں کریں گے جو ہماری خاطر غلطی کر رہے ہوں گے اپنے سر لے لیں گے۔غرض یہ نوجوان طبقہ اس وقت احمدیت کی طرف زیادہ توجہ کر رہا ہے اور ہم پر بھی بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے پڑھے لکھے طالب علم ہیں لیکن اکثر مظلوم ہیں ان سے بھی کوئی پیار نہیں کرتا ایک دفعہ بہت سے غیر احمدی طالب علم مجھ سے ملنے آئے ان میں کئی ایک لیڈر ٹائپ کے تھے جب میں اٹھا تو ایک لیڈ ر طالب علم کے منہ سے ایک ایسا فقرہ نکلا جسے سن کر مجھے خوشی بھی ہوئی لیکن مجھے دکھ بھی بہت ہوا جب ہم ڈیڑھ دو گھنٹے کی ملاقات کے بعد فارغ ہوئے اس کے بعد مصافحہ کرنا تھا وہ میرے دائیں طرف بیٹھا ہوا تھا پہلے اسی سے میں نے مصافحہ کرنا تھا۔وہ آہستہ سے مجھے کہنے لگا کہ آج پہلی دفعہ کسی شریف آدمی نے ہم سے شرافت سے باتیں