سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 503
33 سوم کی نسبت بہت کم ہیں۔دفتر سوم کا معیار 13 فیصد تھا۔پھر میں نے کہا اسے بڑھا کر 20 تک لے جاؤ۔یہ بڑھا تو ہے یعنی 13 سے 15 تک آگئے ہیں لیکن ابھی 20 تک نہیں پہنچے دفتر سوم کی دوذمہ داریاں انصار اللہ پر عاید ہوتی ہیں ایک یہ کہ دفتر سوم میں زیادہ کم عمر بچے ہیں یا وہ ہیں جن کی احمدیت میں کم عمر ہے یہ ہر دوتر بیت کے محتاج ہیں اور ان ہر دو کی تربیت کا کام خدام الاحمدیہ کا نہیں بلکہ انصار اللہ کا کام ہے مجموعی حیثیت میں وہ زیادہ تربیت یافتہ ہیں۔یہ صحیح ہے کہ انصار اللہ میں بعض نئے احمدیت میں داخل ہو نیوالے بھی شامل ہو جاتے ہیں۔انہیں ہم خدام الاحمدیہ یا اطفال میں تو نہیں بھیجتے مثلاً جو 45 یا 50 سال کی عمر میں آج احمدی ہوا ہے اور ہر مہینے بیسیوں اور سینکڑوں لوگ ایسے ہوتے ہیں۔ایسے لوگ بہر حال اپنی عمر کے لحاظ سے انصار اللہ میں جائیں گے اور ان کی تربیت کمزور ہوگی لیکن زیادہ رواس وقت نو جوانوں میں ہے اور میں بڑا خوش ہوں ہماری اگلی نسل میں بڑوں کی نسبت دین کی طرف بھی اور اسلام کے حقیقی نور کی طرف بھی اور احمدیت کی طرف بھی زیادہ توجہ ہے اور بعض جگہ تو اس وجہ سے فکر پیدا ہوتی ہے دو تین جگہ سے یہ رپورٹ آئی ہے کہ انہوں نے ایک فتویٰ دے دیا تھا کہ احمدی کا فر ہیں اس کے مقابلے میں اس وقت تک دو چیزیں آگئی ہیں۔میں ضمنا یہ بھی بتا دوں کہ دنیا جو مرضی کہتی رہے اگر ہمارا رب ہمیں کا فرنہیں کہتا تو ہمیں کوئی فکر نہیں لیکن چونکہ بہت سے احمدیت سے باہر ہیں وہ غلط راستے پر چل سکتے ہیں غلط نتائج لے سکتے ہیں اسلئے ہمیں بعض دفعہ کفر کے فتوؤں کا جواب دینا پڑتا ہے کہ ہائیکورٹ نے بھی یہ فیصلہ کیا اور قوم کے محبوب سیاسی رہنما قائد اعظم نے بھی یہ کہا وغیرہ وغیرہ۔یہ جو نئے نئے احمدیت میں داخل ہوئے ہیں یا جو احمدی نہیں ہیں ان کے لئے ہمیں یہ چیزیں چھپوانی پڑی ہیں ورنہ ہمیں کیا ضرورت ہے؟ جس کے کان میں اللہ تعالیٰ یہ کہ رہا ہو کہ میں تجھے مسلمان سمجھتا ہوں اسے کسی اور کے فتوے کی ضرورت تو باقی نہیں رہتی۔اللہ تعالیٰ کا فرمان کافی ہے اور الْحَمْدُ لِلَّهِ وہ ہمیں یہی کہہ رہا ہے میں تمہیں مسلمان سمجھتا ہوں لیکن جب ہم دوسروں کے لئے چھپواتے ہیں۔جماعت احمدیہ لاہور کے ایک دوست نے کچھ پوسٹر شائع کئے تو دو تین جگہ سے یہ رپورٹ آئی کہ جب یہ پوسٹر لگائے جارہے تھے تو چونکہ ہمارے خلاف تعصب بھی ہے اور یہ تعصب جہالت کے نتیجہ میں ہے یا عدم علم کے نتیجہ میں ہے۔یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم انہیں صحیح واقفیت بہم پہنچائیں اس لئے ایسے موقع پر ہمیں ان کے اوپر رحم ہی آتا ہے اپنے اوپر غصہ آتا ہے کہ ہم نے صداقت صحیح رنگ میں ان تک کیوں نہیں پہنچائی بہر حال تعصب ہے) چنانچہ کئی لوگ کھڑے ہو گئے کہ ہم یہ پوسٹر نہیں لگانے دیں گے اس پر کئی غیر احمدی دوست ان کے مقابلے پر کھڑے ہو گئے کہ ہم دیکھیں گے تم کس طرح پھاڑتے ہو پس ایسی لڑائی میں ہم شامل تو نہیں ہو نگے لیکن ملوث سمجھے جائیں گے حالانکہ وہاں کوئی احمدی نہیں لڑے گا کیونکہ لڑنے کا تو نہ ہمیں حکم ہے اور نہ ہمیں ایسی تربیت دی گئی ہے لیکن جن کی توجہ غلبہ اسلام کی اس مہم کی طرف ہوتی ہے ان کو جوش