سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 445 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 445

سبیل الرشاد جلد دوم 445 کامل طور پر اور سچے معنے میں امتی بن جاتا ہے۔اور اپنا وجود محمد کے وجود میں کھو دیتا ہے صلی اللہ علیہ وسلم۔اس کے لئے مکالمہ مخاطبہ کے دروازے کھلے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہم کلام ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں : دو امتی ہونے کے بجز اس کے اور کوئی معنے نہیں کہ تمام کمال اپنا اتباع کے ذریعہ سے رکھتا ہو۔“ پھر آپ فرماتے ہیں : ”نبی کے لفظ سے اس زمانہ کے لئے صرف خدا تعالیٰ کی یہ مراد ہے کہ کوئی شخص کامل طور پر شرف مکالمہ اور مخاطبہ الہیہ حاصل کرے اور تجدید دین کے لئے مامور ہو۔یہ نہیں کہ وہ کوئی دوسری شریعت لاوے کیونکہ شریعت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی پر نبی کے لفظ کا اطلاق بھی جائز نہیں۔جب تک اس کو امتی بھی نہ کہا جائے جس کے یہ معنی ہیں کہ ہر ایک انعام اُس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے پایا نہ براہ راست - پس ہم یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آ سکتا اور ہم یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور آپ کی شان یہ تقاضا کرتی تھی ہے کہ وہ تمام فیوض رُوحانی اور مدارج روحانی جو پہلے انبیاء کو مختلف امتوں میں ملے وہ آپ کی امت کو آپ کی اتباع اور پیروی کے نتیجہ میں ملیں۔اس لئے امت محمدیہ میں خدا تعالیٰ سے ہم کلام ہونے کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہا ہے۔آج بھی کھلا ہے اور قیامت تک کھلا رہے گا۔جو اولیاء پہلے گزرے بڑی کثرت سے اُن کے اُو پر خدا کا کلام نازل ہوا اور اُن کو خدا نے ہدایت دی۔اُن کو قرآن کریم کے وہ معانی بتائے جو اُس زمانہ کے مسائل کو حل کرنے والے تھے۔ایک دفعہ مجھے خیال آیا اور جتنی کتابیں دستیاب تھیں یہاں۔ایک دوست کو مقرر کیا میں نے کہ پہلے بزرگوں کے وحی والہام اور کشوف کو اکٹھا کرو۔تو ساری صدیوں کے میں یہ نہیں کہتا وہ سارے تھے کیونکہ مجھے پتہ ہے کہ بہت ساری ہماری لائبریریاں ہمارے دشمنوں نے جلا دیں لیکن جو کتا ہیں ہمیں ملیں ان میں سے تیرہ صدیوں کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ تک کے بزرگوں کے الہام اور وحیاں اکٹھی کیں کا پیوں میں ، وہ ساری مل کے اس کلام سے کم تھیں جو کلام حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر نازل ہوا۔ریویو بر مباحثہ بٹالوی و چکڑالوی صفحه ۸ روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۲۱۶ تجلیات الہیہ حاشیہ صفحہ ۹ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۴۰۱