سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 429 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 429

429 سبیل الرشاد جلد دوم علیہ السلام کی شریعت کی پیروی کر رہے ہیں بلکہ وہ محض موہبت تھی۔وہ اس شریعت کی پیروی نہیں کر رہے ہوتے تھے اور اُن کو نبوت مل رہی ہوتی تھی۔یعنی یہ ہی ایک Extreme کے اوپر مثال دینے لگا ہوں آپ کو۔حضرت عیسی علیہ السلام بظاہر شریعت موسوی کے پیرو نبی تھے۔لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا تھا کہ جو تیرے ایک منہ پہ ایک تھپڑ مارے تو اس کے منہ پر اس سے زیادہ زور سے تھپڑ مار دے۔اور حضرت عیسی علیہ السلام نے کہا تھا کہ بالکل غصہ نہیں دکھانا یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کا یہ بالکل واضح حکم منسوخ کرنے والے تھے۔اور پھر بھی نبوت پانے والے تھے۔پس امتی نبی اُسے کہتے ہیں کہ جو اپنے نبی متبوع کے فیض کے بغیر کچھ بھی حاصل نہیں کرتا۔یعنی زمین آسمان کا فرق ہے۔ان دو تعریفوں میں اس واسطے کوئی شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایسا کھڑا نہیں ہو سکتا جو اپنے اس دعوی میں سچا ہو کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اتباع نہیں کی پھر بھی خدا نے مجھے نبی بنا دیا۔ہو ہی نہیں سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے۔نبوت تو بہت بڑا مقام ہے اسے علیحدہ چھوڑو۔کوئی چھوٹی سی چھوٹی روحانی خوبی کسی میں نہیں پیدا ہو سکتی جب تک کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل حاصل نہ کی گئی ہو۔اور یہ زمین آسمان کا فرق ہے یعنی ایک وہ ہے جسے اس مقام تک پہنچنے کے لئے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نبوت پر عمل کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔بیچ میں Consideration ہی نہیں ہے اور دوسرا وہ ہے جو ایک قدم بھی اگر ہٹا تا ہے تو چھوٹے سے چھوٹا روحانی درجہ بھی اُسے نہیں مل سکتا۔اس واسطے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آ سکتا۔یعنی کوئی ایسا شخص جو آپ سے علیحدہ ہو کے آپ کے مقابلے میں کھڑا ہو کے کہے، مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ضرورت نہیں اور مجھے کوئی روحانی مقام مل گیا۔آہی نہیں سکتا۔ناممکنات میں سے ہے۔لیکن امتی اگر ہو یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرنے والا ہو تو وہ صالح بھی ہوگا صرف اس لئے کہ اُس نے اتباع کی۔وہ شہید بھی ہوگا صرف اس لئے کہ اُس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اپنے دائرہ استعداد کے اندر رہ کر کی۔اور وہ صدیق بھی ہو گا صرف اس لئے کہ اُس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی۔اور نبی بھی ہوسکتا ہے اگر وہ فنافی محمد کے بلند تر مقام تک پہنچ جائے۔یعنی اُسے سب سے بڑے ارفع مقام کے حصول کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں فنا ہونا پڑے گا۔تو یہ ہمیں جب کہتے ہیں کہ یہ کافر ہیں تو اگر ہم نبی کے معنے ہی نبوت کو جاری سمجھیں تو ہم واقعی کا فر ہیں یعنی ہم آپ کہتے ہیں کہ پھر ہم کافر ہیں۔لیکن ہم وہ نبوت جاری نہیں سمجھتے۔ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا۔جس شخص نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم مقام کو پہچانا۔اور آپ کی رفعت کو