سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 424
424 سبیل الرشاد جلد دوم ایسی جگہ ہونی چاہئے۔جہاں دوست اکٹھے ہو جائیں ورنہ اگر آپ ایک حلقہ جس میں ایک ایسا احمدی گھرانہ بھی ہے جو اُس حلقہ کی مسجد سے دو تین میل دور ہے اور آپ یہ امید رکھیں کہ خدا تعالیٰ کا حکم بجا لاتے ہوئے اسے دو تین میل پانچ دفعہ آنا چاہئے۔یہ خیل غلط ہے۔اور خدا تعالیٰ نے جو سہولت اور نرمی امت محمدیہ کے لئے پیدا کی یہ اُس کے خلاف ہے۔اس لئے اگر آپ نے نماز با جماعت اس معنی میں کروانی ہے جس معنی میں کہ ہمیں کہا گیا ہے کہ اکٹھے ہوا کرو۔تو نماز پڑھنے کے لئے جگہوں کے فاصلے اتنے ہونے چاہئیں کہ بغیر لاؤڈاسپیکر کے اذان کی آواز پہنچ جائے۔ہو سکتا ہے کہ بعض ایسے حالات ہوں کہ آپ وہاں اذان نہ دے سکیں لیکن یہ تو ایک موٹا اندازہ ہے کہ یہاں سے اذان کی آواز پہنچ جائے گی یا نہیں پہنچے گی۔اب آپ نے کہا ایک حلقہ ہے وہاں دو مساجد ہیں۔اُس کا دائرہ جو ہے اُس حلقے کا اس کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے کا فاصلہ ۳۔۴ میل کا ہے۔تو کوئی شخص ایسا بھی ہو گا جس کی آواز آدھے میل یا میل تک پہنچ جائے لیکن عام طور پر انسان کی آواز اذان دیتے ہوئے اتنے فاصلے پر نہیں پہنچتی۔اس میں زیادہ جذبہ کا سوال ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی زندگی میں جمعہ کے لئے بھی ایک یہ شکل نظر آئی کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک اور صحابی کی شراکت سے ایک باغ لیا تھا وہاں کام کرتے تھے۔تو ایک جمعہ ان کے شریک آکے پڑھا کرتے تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اور دوسرا جمعہ خود حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آ کے پڑھتے تھے پتہ نہیں کتنا لمبا زمانہ تھا لیکن بہر حال یہ ایک واقعہ ہوا۔اس سے پتہ لگتا ہے کہ اعتراض کرنے کی بجائے کام کرنا چاہئے۔جب میں کہتا ہوں ” اعتراض کرنے کی بجائے تو میرے دماغ میں اعتراض ہے کہ فلاں شخص مسجد میں آ کے نماز با جماعت ادا نہیں کرتا۔اور اُس کا گھر اُس جگہ سے جہاں جماعت احمد یہ اُس حلقے میں نماز باجماعت ادا کر رہی ہے، فاصلے پر ہے ایسا کہ اس کے لئے پانچوں وقت آنا تکلیف مَا لَا يُطَاق “ ہے اس کا جو ایک بُر انتیجہ نکلا۔وہ یہ کہ یہ عادت پڑ گئی۔جماعت میں یہ بڑی عادت ہے اور میں جماعت احمدیہ کی بات کرتا ہوں کیونکہ یہ نسبتاً زیادہ پیار کے ساتھ خدا تعالیٰ کے لئے ایک جگہ جمع ہو کر اس کے حضور جھکنے کی کوشش کرتے ہیں کہ مغرب وعشاء اور صبح کی نمازیں ہو جائیں اور ظہر و عصر کے متعلق کوئی خیال ہی نہیں۔حالانکہ اگر ایک آبادی ظہر اور عصر کے وقت کسی اور جگہ اکٹھی ہوتی ہے اور صبح و شام کے وقت اُن کے گھروں کے قریب جب وہ فارغ ہوتے ہیں کسی اور جگہ اکٹھی ہوتی ہے تو دونوں جگہوں پر ایسا انتظام ہونا چاہئے کہ وہ نماز