سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 421
421 سبیل الرشاد جلد دوم مار دو گے وہ تو تم نے مار دیئے۔میں تو یہ کہ رہا ہوں کہ وہ وقت آنے والا ہے کہ زندوں کی ننانوے فیصد اکثریت جو ہے وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع ہو جائے گی۔(نعرے) آج کے زمانہ کی یہ ایک حقیقت ہے جو میں نے ان کے سامنے رکھ دی لیکن اس حقیقت کی تفاصیل بیان کرنا یہ جماعت احمدیہ کا کام ہے۔اس حقیقت کے مطابق اپنی زندگیوں کو بطور نمونہ ان کے سامنے پیش کرنا یہ آپ میں سے ہر خاندان کا کام ہے۔اس واسطے عہد کرو آج کہ ہم دنیا کی لالچ میں خدا کی طرف پیٹھ کر کے اپنی زندگیاں نہیں گزاریں گے۔ہم دنیا کی خاطر کسی اور کا دامن نہیں پکڑیں گے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن کو چھوڑ کے۔ہم خدا تعالیٰ کی رحمت کی بھیک مانگتے ہوئے اپنی زندگی گزاریں گے۔ہمارے ہاتھ میں ہمیشہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دامن مضبوطی سے پکڑا رہے گا اور انشاء اللہ دنیا کی کوئی طاقت اس دامن کو ہم سے چھڑا نہیں سکے گی۔جو مرضی کر لے دنیا۔انشاء اللہ۔اور آپ بھی عہد کریں اور اپنے بچوں کو دین سکھا ئیں۔بہت سے منصوبے میں نے بنائے ہیں اُن پر عمل کریں۔قرآن کریم کا منصوبہ ہے۔خدا تعالیٰ کی صفات کے جلوے اس مادی دنیا میں ہیں وہ بھی آیات اللہ ہیں قرآن کریم کی اصطلاح میں۔علمی میدان میں آگے بڑھو، آگے بڑھو ! آگے بڑھو ! آگے بڑھو ! یہاں تک کہ دنیا اس بات کی بھی قائل ہو جائے (جس طرح سپین نے اُن کو قائل کیا تھا ایک وقت میں) کہ ہر میدان میں احمدی مسلمان ہم سے آگے نکل گیا اور ہم مجبور ہو گئے ہیں اُس سے سیکھنے ، اُس سے بھیگ مانگنے پر۔اللہ تعالیٰ وہ دن جلد لائے۔آمین اس کے بعد حضور نے عہد دہر وایا اور پھر فرمایا: ظہر اور عصر کی نماز انشاء اللہ مسجد مبارک میں ڈیڑھ بجے ہوگی اور اس کے بعد جہاں بھی کھانے کا انتظام ہے کھانا ہوگا۔پہلے نماز ہوگی اگر آپ جلدی آ سکتے ہیں۔اس وقت ایک بجنے میں اکیس منٹ ہیں۔سوا ایک بجے نماز ہو سکتی ہے۔سوا ایک بجے نماز ہو گی۔یعنی ایک بج کے پندرہ منٹ پر اور اس کے بعد کھانا ہوگا ، اور جتنا مرضی وقت لگا ئیں پھر۔“ دعا فرمانے کے بعد حضرت اقدس نے احباب جماعت کو حسب ذیل الوداعی نصیحت فرمائی: چند دنوں تک چودہویں صدی ختم ہو رہی ہے۔اس صدی کو خدائے واحد و یگانہ کی تو حید کے ورد کے ساتھ الوداع کہیں۔لا الہ الا اللہ اتنی کثرت سے پڑھیں کہ کائنات کی فضا اس ترانہ کے ساتھ معمور ہو جائے۔دن رات اُٹھتے بیٹھتے بالکل خاموشی کے ساتھ نہیں ، اونچی آواز میں بھی نہیں ، اس طرح ( حضور نے دھیمی آواز میں لا الہ الا الله متعدد بار دہرا کر دکھایا اور پھر فرمایا ) لَا إِلَهَ إِلَّا الله - لَا إِلَهَ الا اللہ اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے پڑھتے رہیں۔اس ندا کے ساتھ اس صدی کو الوداع کہیں اور اسی ندا کے