سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 413 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 413

413 مشتمل سبیل الرشاد جلد دوم خلاف۔مسلم نارتھ بہت بڑا علاقہ نائیجیریا کے شمال میں ہے جو قریباً قریباً سو فیصد مسلمان آبادی پرمستنم ہے۔اُس وقت تو غالباً نو صوبے تھے پھر بعد میں وہ بارہ بنے اور اب اُنیس صوبے کر دیئے گئے ہیں۔سارے نائیجریا کے۔تو بہت سے صوبے ہیں اور بہت سا علاقہ ایسا ہے جہاں عثمان فودی جو حضرت بانی سلسلہ احمدیہ سے ایک صدی پہلے اُس علاقہ کے مجدد ہو کر آئے۔دنیوی سیاست میں تو نہیں لیکن ویسے دو حصوں میں ان کے دو بیٹوں کی اولاد کا اتنا اثر ہے کہ وہاں کے صوبہ کا گورنر بھی اُن سے مشورہ کے بغیر کوئی کام نہیں کرتا۔اُن کے چھوٹے بیٹے کی جو اولاد ہے اس میں تو تعصب نہیں۔انہیں رائل بلڈ Royal) (Blood شاہی خون کے نام سے پکارا جاتا ہے اُن کی زبان میں۔اُن میں بعض احمدی بڑے دلیر قسم کے ہو چکے ہیں۔عثمان فودی کی اولاد میں سے۔اور دوسرے صوبے میں یہ لوگ پڑھے لکھے ہیں۔اتفاق یہ ہے کہ عثمان فودی کے وہ صاحبزادے جن کا نام عبد الرحمن تھا وہ بڑے عالم اور تفقہ فی الدین رکھنے والے تھے۔بہت سی عربی میں کتابیں لکھی ہیں۔میں نے بھی اُن میں سے بعض پڑھی ہیں۔اُن کی اولاد میں سے جو اس وقت ہیں وہاں وہ زیادہ پڑھے لکھے نہیں، لیکن متعصب بڑے ہیں۔اُن کے علاقے میں تو کوئی احمدی گھس ہی نہیں سکتا تھا اتنی مخالفت تھی، لیکن اُس زمانے میں بھی اُن کا داماد احمدی تھا اور چھپا ہوا تھا، لیکن ۱۹۷۰ء میں جب یہ نصرت جہاں کا منصوبہ جاری ہوا اور وہاں سکول کھلا تو ہمارے قائم کردہ ایک سکول میں ایک وزیر آئے اور وہاں اُن کے منہ سے کچھ ایسی باتیں احمدیت کی تعریف میں نکلیں کہ ہمارے احمدی حیران ہوئے کہ یہ اُس خاندان سے تعلق رکھنے والا اُن کا داماد ہے اور یہ ایسی باتیں کیسے کہہ گیا احمدیت کے حق میں۔کوئی دوست اُن کو ملے تو وہ کہنے لگے میں تو چھپا ہوا احمدی ہوں۔میں تو سکول کے زمانے سے احمدی ہوں اور میرے جیسے چار پانچ اور بھی ہیں۔یہاں احمدی چھپے ہوئے ، جو بڑے بڑے عہدوں پر ہیں ، اپنے آپ کو ظاہر نہیں کرتے۔بہر حال یہ اُس زمانے کی بات ہے۔پھر خدا تعالیٰ نے توفیق دی اور وہاں دو سکول جماعت احمدیہ نے نصرت جہاں سکیم کے ماتحت کھولے اور ہمارے ٹیچر وہاں گئے اور اثر ہوا اور جو عدم علم اور جہالت کی وجہ سے خیالات تھے ، اُن میں ایک تبدیلی آنی شروع ہوئی۔بہت سے ہونسا کے رہنے والے باہر ادھر اُدھر گئے ہوئے تھے وہ بھی احمدی ہوئے۔پھر واپس آئے۔حالات بدلتے رہتے ہیں ملکوں میں۔اُن کے حالات بھی بدلے اور اب یہ حال ہے ، ایک میں مثال دوں گا یوں تو بہت سی مثالیں ہیں۔میں یہاں سے جب جانے لگا دورے پر تو نائیجیریا سے ایک خط ملا جس کا میں نے کہا، جواب دے دیں۔پھر سفر میں مجھے خط ملا اور خط یہ تھا، ( یہ تبدیلی جس کو میں ذہنی انقلاب کہتا ہوں اس سے اس کا پتہ لگتا ہے ) انہوں نے لکھا کہ فلاں صوبے میں آبادی کی نسبت کچھ اس طرح ہے کہ