سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 403
403 سبیل الرشاد جلد دوم مطابق زمین کے اندر خدا تعالیٰ نے انسان کی خدمت کے لئے جو پانی کو پیدا کیا تھا۔انسانی عقل خدا تعالیٰ کے حضور عاجزانہ دعا اور اپنی خدا داد قوت اور استعداد کے نتیجہ میں وہ زمین دوز پانی کو پہاڑ کی چوٹی پر لے آئی۔آج کی مہذب ترقی یافتہ چاند پر اترنے والی نسل انسانی ڈر کے مارے اس کو چھیڑتی نہیں یہ دیکھنے کے لئے کہ کیا اصول انہوں نے استعمال کیا۔ڈراس بات کا کہ ایسا نہ ہو کہ ہم اسے کھول دیں اور پھر اس کو بنا نہ سکیں۔مسلمان کی یہ عظمت، مسلمان کی عاجزی اور اس کی دعا اور اس کی تدبیر کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے قائم کی۔اس محل کی تعریف یہ ہے کہ بادشاہ وقت نے بڑے شوق سے بڑی دولت خرچ کر کے اسے تیار کر وایا۔کہتے ہیں تین ہزار سنگ تراش کئی سال کام کرتے رہے اس کو بنانے پر۔اور فصیل اس کی ایک وسیع خطہ ارض کو گھیرے ہوئے ہے۔در و دیوار اور گنبدوں ، محرابوں کو بہت خوبصورت سجایا گیا۔جب بادشاہ وقت اپنے درباریوں کے ساتھ گھوڑوں پر سوار ہو کر اس محل کی طرف روانہ ہوئے تو شیطان نے دل میں وسوسہ پیدا کیا اور انانیت نے جوش مارا۔میں اتنا بڑا بادشاہ کئی ہزار ساری دنیا سے آئے ہوئے ماہرین فن یہاں جمع ہوئے ”میری خاطر“ ”میری خاطر انہوں نے اتنے سال کام کیا اور اتنی عظیم چیز تیار ہو گئی۔ساتویں عجوبہ سے بھی بڑھ کر ایک عجوبہ۔ایک چشمہ اندر ہی اندر پہاڑ کی چوٹی پر پہنچا دیا۔بغیر پھول اور پھل اور گھاس کے تو وہ لوگ رہ ہی نہیں سکتے تھے۔اُن کو قدرت کے مناظر بڑے پسندیدہ تھے۔”میں“۔میں نے جوش مارا تو خدا تعالیٰ کے فرشتوں نے اسے جھنجھوڑا۔یہ میں “۔”میں کیا لگائی ہے۔جیسا کہ میں نے خطبہ جمعہ میں بتایا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو بھی نعمت تمہارے پاس ہے۔تمہارے شامل حال ہے وہ خدا تعالیٰ کی عطا کردہ ہے۔تمہارے زور بازو سے یا تدبیر سے یا دولت سے نہیں ملی تمہیں۔جب فرشتوں نے اسے جھنجھوڑا تو وہ سخت پریشان ہوا اور ابھی جب وہ دروازے سے باہر ہی تھا۔اس نے گھوڑے سے چھلانگ ماری اور زمین پر سجدہ کر دیا اور کہنے لگا واپس چلو۔میرے رہنے کے لئے نہیں یہ محل۔اور انجینئرز سے کہا کہ سارے نقوش مٹاؤ اور ان در و دیوار اور چھتوں پر صفات باری لکھو خو بصورتی کے لئے۔اور لا غَالِبَ إِلَّا اللہ کو اس محل کے حسن کا مرکزی نقطہ بناؤ۔چاروں طرف دیوار پر یوں چل رہی ہے پٹی۔لَا غَالِبَ إِلَّا الله - لَا غَالِبَ إِلَّا الله - لَا غَالِبَ إِلَّا اللہ پھر اس میں بیضوی شکل میں اور گول شکلوں میں بھی۔اس کے علاوہ الْقُدْرَةُ لِلہ۔الْحُكْمُ لِلّه الْعِزَّةُ لِلہ۔یہ ساری خوبصورتی اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کے جلال کے لئے تھی۔دیوار میں بھی اپنی خاموشی سے خدا کی حمد کے ترانے گا رہی ہیں۔پھر کئی سال مزید لگے اور سنگ تراشوں نے سنگ میں سے یہ حروف ابھارے ہیں۔دو۔دو۔تین۔تین سوت تراشا ہے سنگ کو۔بعض حصوں پر تو زمانے 66۔66