سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 401
سبیل الرشاد جلد دوم 401 سید نا حضرت خلیفہ امسیح الثالث رحم اللہ تعالیٰ کا افتاحی خطاب فرموده ۳۱ را خاء ۱۳۵۹ بهش ۳۱ راکتو بر ۱۹۸۰ء بمقام احاطه دفاتر مجلس انصاراللہ مرکز یہ ربوہ) سید نا حضرت خلیفہ المسح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے مورخہ ۳۱ راخاء۱۳۵۹ہش ۳۱ اکتوبر ۱۹۸۰ء کو مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع منعقدہ احاطہ انصار الله مرکز یہ ربوہ سے جو افتتاحی خطاب فرمایا اس کا مکمل متن ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔تشہد وتعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا: ۲۶ جون کو میں ربوہ سے سفر پر روانہ ہوا تھا اور ۲۶ / اکتوبر کو واپسی ہوئی۔جہاں تک ربوہ سے جانے ، واپس آنے کا سوال ہے پورے چار ماہ ہوئے۔ان چار ماہ میں تین بر اعظموں میں زمانہ کی آنکھ نے جو دیکھا وہ تو ایک لمبی داستان ہے۔آہستہ آہستہ بیان کروں گا۔یہاں آتے ہی ابھی کوفت دور نہیں ہوئی تھی کہ نئی ذمہ داریاں آ گئیں۔آج جمعہ، پھر انصار اللہ کا اجتماع، پھر چند دن کے بعد ایک جمعہ اور خدام الاحمدیہ کا اجتماع۔یہ کام ۳۱ /اکتوبر سے ۹ / نومبر تک رہیں گے۔پھر سلسلہ دوسری نوعیت کے کام کا شروع ہو جائے گا۔اس کے بعد شاید کچھ آرام کا بھی موقع ملے۔اگر نہ ملے تو بھی حرج نہیں کیونکہ جب تک میں کام میں لگا رہتا ہوں مجھے کوفت کا احساس نہیں ہوتا۔جب کام کم ہو جاتا ہے اُس وقت تکان اپنا سر اٹھاتی ہے۔یہ جو کچھ ہو گیا ان چار مہینوں میں اس کا ایک پس منظر بھی ہے۔جمعہ کے خطبہ میں میں نے تحریک جدید کا پس منظر بیان کیا۔کیونکہ اسی پس منظر کے تسلسل میں ہم اس زمانہ میں داخل ہوئے اور اس میں سے گزرے۔مختلف واقعات کا ایک اور سلسلہ ہے۔اس وقت میں ان کے متعلق کچھ بتاؤں گا اور پھر انصار اللہ کی جو ذمہ داریاں ہیں ، چند ایک کا ان میں سے ذکر کروں گا۔سپین میں ۷۰ء میں بھی میں گیا۔میڈرڈ گئے ، وہاں سے قرطبہ گئے۔میڈرڈ کے قریب ایک قصبہ ہے طلیطلہ۔کچھ عرصہ طلیطلہ، مسلمان حکومت کا دارالحکومت بھی رہا۔یہ قریباً ستر میل کے فاصلہ پر ہے۔میڈرڈ سے۔( صحیح فاصلہ اس وقت ذہن میں نہیں کم و بیش اتنا فاصلہ ہے ) قرطبہ بہت بڑا شہر ہے۔اُس وقت بھی بہت بڑے شہروں میں سے ایک تھا۔آبادی اتنی نہیں تھی۔دارالحکومت تھا اسلامی حکومت کا۔