سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 395 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 395

395 سبیل الرشاد جلد دوم پر انسان کار بند ر ہے۔اور رسول اللہ کی اطاعت یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، معلم حقیقی سے قرآن عظیم کی جوتفسیر سیکھیں اور ہمارے سامنے بیان کریں ہم کوشش کریں کہ اس کے مطابق اپنی زندگی گزارنے والے ہوں۔رسول اللہ کی اطاعت کے دوسرے معنی یہ ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرآن کریم کی جو تفسیر کریں خدا داد، نور فراست کے نتیجہ میں ، اس کو ہم مضبوطی سے پکڑیں اور اپنی دینی اور دنیوی ترقیات کے لئے اس پر عمل کرنا ضروری سمجھیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا تیسرا مطلب یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو اسوہ ہمارے سامنے پیش کیا اس کے حسن اور عظمت سے ہم واقف ہوں اور اپنی زندگی میں بھی اسی حسن کو پیدا کرنے کی کوشش کریں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے چوتھے معنی یہ ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو اجتہاد کیا اس اجتہاد کو ہر دوسرے اجتہاد پر فوقیت دیں اور ان پر اسے بالا سمجھیں اور اپنی فلاح کی بنیاد اس اجتہاد کے مطابق اعمال صالحہ بجا لانے میں دیکھیں۔پھر ان آیات میں اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ بچے مومن کی پانچویں صفت یہ ہے کہ پہلی چار باتوں کے حصول کے نتیجہ میں اس کی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ جب اس کے سامنے اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاتا ہے تو اس کا دل، اس کی روح اور اس کا سارا وجو دخشیت اللہ سے بھر جاتا ہے۔اور چھٹی صفت سچے مومن کی یہ بتائی کہ جب ان کے سامنے اللہ کی آیات پڑھی جائیں تو وہ ان کے ایمان کو بڑھاتی ہیں۔آیات کا لفظ قرآن کریم نے دو معانی میں استعمال کیا ہے۔ایک یہ اِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَواتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَايَتِ لِأُولِي الْأَلْبَابِ کہ زمین و آسمان کی پیدائش میں آیات بھری ہوئی ہیں۔ہر چیز جو دست قدرت باری سے ظاہر ہوئی وہ اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم آیت ہے۔اور سچے مومن کا یہ فرض ہے کہ وہ اس حقیقت پر ایمان بھی لائے اور اس حقیقت سے فائدہ اٹھانے کی ہر آن کوشش بھی کرتا رہے۔دست قدرت باری سے ظاہر ہونے والی ہر شے غیر محد ودصفات سے متصف ہے۔مثلاً خشخاش کا ایک دانہ ہی لے لو۔آج تک انسان خشخاش کے دانہ کی ساری کی ساری خصوصیات کا علم حاصل نہیں کر سکا۔ہر نسل پہلے علم پر زیادتی کرتی چلی آئی ہے، زیادتی کرتی چلی جائے گی۔بظاہر چھوٹی نظر آنے والی چیزیں بھی اپنی عظمت کے لحاظ سے آیات اللہ میں شمار ہوتی ہیں۔اور انسانی ترقی کا راز اس چیز میں ہے کہ وہ انہیں آیات اللہ سمجھے اور دوسرے آیات کا لفظ اس معنی میں سورة آل عمران آیت ۱۹۱