سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 373
373 سبیل الرشاد جلد دوم جو منصوبے بنائے جاتے ہیں ان میں حاکم وقت کے ساتھ پورا تعاون کرتی ہے۔لیکن اگر کوئی شخص اس کے یہ معنے کرے کہ کوئی احمدی اپنے اس قدر پیار کرنے والے رب کریم سے کسی کے کہنے پر قطع تعلق کر لے گا۔یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسے محسن اعظم کو جس کے احسانوں کے جلوے روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں ایک عقلمند انسان اپنی زندگی میں دیکھتا ہے چھوڑ دے گا تو یہ غلط فہمی پیدا ہی نہیں ہونی چاہئے اور ہمیں ایک دوسرے کو کچھ کہنے کی بھی ضرورت نہیں۔ہر احمدی خدا تعالیٰ کے فضل سے خود سمجھتا ہے۔احمدی کہتے ہی اسے ہیں جو اللہ ( جسے قرآن کریم نے پیش کیا ہے ) کی محبت میں اور محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم (جن کی عظمت اور جلال کو قرآن عظیم نے بڑی شان سے بیان کیا ہے ) کے عشق میں مست آگے سے آگے بڑھتا چلا جا رہا ہے۔اور بھی بہت سے پہلو ہیں لیکن یہ تین چار باتیں کہنے کے بعد اب میں جو بہت سے کام ہمیں کرنے ہیں ان کاموں کے متعلق اور دنیا کے حالات کے متعلق کچھ باتیں آپ سے کرنا چاہتا ہوں۔۱۹۷۳ء کے جلسہ میں میں نے ساری دنیا میں اسلام کو غالب کرنے کے لئے ایک قدم جو جماعت کو اٹھانا چاہئے اُس کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ جو صدی گزر رہی ہے۔اس کی جو بلی ، اور یہ کہتے ہوئے مجھے زیادہ لذت آتی ہے کہ اپنی زندگی کی دوسری صدی کے استقبال کے لئے ایک منصوبہ پیش کیا تھا۔استقبال کے لئے اس لئے کہ خدا تعالیٰ نے جو لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّم میں اور قرآن کریم میں سینکڑوں دوسری جگہ بتایا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور بزرگانِ امت کو جو وحی اور کشوف اور رؤیا میں بتایا گیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خدا تعالیٰ سے جو علم پایا۔اس کو سامنے رکھ کر میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ہماری زندگی کی دوسری صدی ساری دنیا میں اسلام کے غالب آ جانے کی صدی ہے۔اس واسطے جس صدی میں اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت سے غلبہ اسلام عملاً ہو جائے گا۔اس عظیم صدی کا ہمیں استقبال کرنا چاہئے۔یہ ایک منصوبہ ہے اور وقت کے ساتھ اللہ تعالیٰ اور منصوبے بھی ذہن میں ڈالتا ہے۔جو وقت پر آپ کو بتا دیے جاتے ہیں۔اس منصوبے کی بہت سی شاخیں ہیں مثلاً یورپ کے جن ممالک میں مساجد اور ہمارے مرکز یعنی مشن ہاؤ سر نہیں بنے۔وہاں مساجد اور مشن ہاؤسز بنا دیے جائیں تا کہ یورپ کے ہر ملک میں خدا تعالیٰ کے نام کو بلند کرنے کے لئے جماعت احمدیہ کا مرکز قائم ہو جائے۔اور ہمارا مبلغ وہاں بیٹھے اور لوگوں سے تبادلہ خیال کرے اور ہر روز کے بدلتے ہوئے حالات میں ان کی عقل اور سمجھ کے مطابق ان سے اسلام کی باتیں کرے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ہر شخص سے اس کی سمجھ کے مطابق بات کیا کرو۔ہر ملک کا اپنا مزاج ہے۔اٹلی کا مزاج اور سورة الصف آیت ۱۰