سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 372
372 سبیل الرشاد جلد دوم بڑے بیک ورڈ (Back ward) اور ترقی یافتہ نہیں ہیں۔اس لئے ہم ان کی خدمت کے لئے یہاں بیٹھے ہیں۔کوئی گھر اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ ایک شخص آکر ان کو کہے کہ میں زبر دستی تمہاری نوکری کروں گا۔انسانی ضمیر زبردستی کی نوکری کو برداشت ہی نہیں کرتی۔اگر وہ خدمت نہیں لینا چاہتے۔تو تم کیوں زور دے رہو خدمت کرنے پر ، باہر نکل آؤ۔بہر حال وہ اس قسم کی باتیں بناتے ہیں۔اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔لیکن آج دنیا کی ضمیر بیدار ہو چکی ہے۔اگر کسی جگہ غلط قسم کی عقلی دلیلیں دے کر اور اخلاقی اقدار بیان کر کے غلط قسم کے قوانین بنائے جائیں تو پھر اس کے خلاف شور اٹھتا ہے۔اور ایسے ملکوں پر دباؤ ڈالے جاتے ہیں کہ یہ تم کیا کر رہے ہو۔گو انسان بحیثیت مجموعی ابھی یہ طاقت نہیں رکھتا کہ جہاں اس قسم کی اصلاحوں کی ضرورت ہو وہ یہ اصلاح کرنے میں کامیاب ہو سکے۔کیونکہ دھڑا بندی ہے اور Spheras of influence ہیں اور کچھ بڑی قو میں ظالم کے ساتھ مل جاتی ہیں۔اس لئے جو بڑی قو میں مظلوم کی مدد کر نا چاہتی ہیں وہ پوری طرح مدد نہیں کر سکتیں۔یہ حالت ہمیں آج کی دنیا میں نظر نہیں آ رہی ہے۔لیکن اندر سے یہ چیز بھی نظر آ رہی ہے کہ ان کے دل سے یہ نکل رہا ہے کہ اگر تم نے غلط قانون بنانا ہے تو اس کے لئے بھی ملمع سازی سے اور ڈپلومیسی (Diplomacy) سے کوئی جواز پیدا کرنے کی کوشش کرو ورنہ دنیا میں شور پڑ جائے گا۔بہر حال جماعت احمدیہ کا یہ طرہ امتیاز ہے۔میں جماعت احمد یہ کہہ رہا ہوں کیونکہ میرے مخاطب صرف پاکستان کے احمدی نہیں بلکہ ساری دنیا میں بسنے والے احمدی ہیں کہ وہ قانون کی پابندی کرنے والی اور اخلاقی اقدار اپنے اندر پیدا کرنے والی جماعت ہے۔۱۹۷۶ء میں میں امریکہ گیا وہاں ایک شہر ڈیٹین ہے اس میں بھی گیا۔وہاں کثرت کے ساتھ افریقہ سے غلام بنا کر لے جائے گئے لوگوں کی اولادیں آباد ہیں اور اب وہ آزاد ہیں، غلام نہیں رہے۔لیکن ان کی حالت اچھی نہیں۔ان کا مئیر (Mayor) سفید فام نہیں بلکہ افریقنوں میں سے ہی ہے۔اچھا پڑھا لکھا اور ہوشیار آدمی ہے۔مجھے کہنے لگا کہ ہم آپ سے بہت خوش ہیں کہ آپ نے اخلاقی لحاظ سے ان لوگوں کی زندگی بدل دی ہے جنہوں نے احمدیت کو قبول کیا اور کہنے لگا کہ آج تک کسی احمدی کے خلاف اخلاقی لحاظ سے ایک شکایت بھی ہمارے پاس نہیں آئی اور دوسروں کے متعلق تو ہر روز بیسیوں بلکہ بعض دفعہ سینکڑوں شکایات آ جاتی ہیں اور ہم آپ کے بڑے ممنون ہیں کہ آپ ہماری مدد کر رہے ہیں اور ہمارے معاشرے کو گند اور بُرائیوں سے صاف کر رہے ہیں۔غرض میں ساری دنیا کے احمدیوں کے متعلق بات کر رہا ہوں کہ جماعت احمدیہ کی ایک صفت اور اس کے مزاج کا ایک پہلو یہ ہے کہ وہ قانون شکنی نہیں کرتی۔اور نیکی کے کاموں میں اور قوم کے مفاد کے لئے