سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 350 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 350

350 سبیل الرشاد جلد دوم کرے کہ جماعت احمد یہ دنیا کے لئے ایک نمونہ بن جائے اور اپنی زبان سے اور اپنے عمل سے نوع انسانی کو حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن و احسان کی طرف کھینچنے والی ہو۔پس جیسا کہ میں بتا چکا ہوں۔ثُلَّةٌ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَثُلَةٌ مِنَ الْآخِرِينَ کی رو سے پہلے اور آخری گروہ میں جو فرق ہے اسے بیان کر کے اس کے جو نتائج نکلتے ہیں ان کی طرف جماعت کو توجہ دلانا چاہتا ہوں۔پہلوں میں ہمیں وحدت نظر نہیں آتی۔وہ فرقہ فرقہ بن گئے۔فقہ کے میدان میں بھی فقہاء کے چار بڑے گروہ بن گئے اور پھر آگے ان کے بھی یعنی حضرت امام ابوحنیفہ کے دونوں شاگردوں نے ان سے اختلاف کیا۔وہ اپنے چھوٹے چھوٹے گروہ لے کر بیٹھ گئے اور یہ گویا امت میں وحدت اور ایکا پیدا کرنے کی اور ایک جھنڈے تلے جمع کرنے کی کوشش نہیں ، اسلام کو پھیلانے کی ضرور کوشش ہے۔خدا تعالیٰ کی طرف لے جانے کی کامیاب کوشش ہے۔اللہ تعالیٰ انہیں بڑی جزا دے۔انہوں نے اسلام کی بڑی خدمت کی ہے اس میں کوئی شک نہیں۔لیکن وہ زمانہ ویسے بھی اس بات کا اہل نہیں تھا اس لئے کہ میں نے بتایا ہے کہ افریقہ اور مشرق میں اتنا فاصلہ تھا کہ بعض دور دراز ملکوں میں پہنچنا ہی مشکل تھا۔ذرائع آمد و رفت نہیں تھے۔سفر کے وسائل موجود نہیں تھے۔چھاپے خانے نہیں تھے۔کتا بیں نہ چھپ سکتی تھیں نہ دُور دُور تک پہنچ سکتی تھیں لیکن اب سالوں کے کام دنوں اور گھنٹوں میں ہو جاتے ہیں۔زمانہ مادی انقلاب کے بعد ایک روحانی انقلاب کو قبول کرنے کے لئے تیار ہو چکا ہے۔یہ ذمہ داری کہ اقوام عالم کو وحدت اقوامی میں پرو دیا جائے یہ آخرین کی اس جماعت پر ہے جو مسیح موعود کی جماعت ہے۔اس لئے اس گروہ میں کوئی ایک مرکزی نقطہ ایسا ہونا چاہئے جو پہلے گروہ میں خلافت راشدہ کے بعد مفقود ہو گیا تھا۔پس اب جماعت احمدیہ میں خلافت احمد یہ وہ مرکزی نقطہ ہے جس کے بغیر خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ پورا نہیں ہوسکتا کہ نوع انسانی کو حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع کر دیا جائے گا۔اور یہ گروہ اُتنا ہی بڑا ہے جتنا پہلا گر وہ تھا شاید کچھ کم ہوگا۔مُنْعَمُ عَلَیہ کے پہلے گروہ سے۔لیکن وہ ایک سلسلہ میں پروئے ہوئے نہیں تھے۔وہ موتی ایک لڑی میں منسلک نہیں تھے۔لیکن اب ایک مرکزی نقطہ ہے۔گو اُس وقت لاکھوں کی تعداد میں خدا تعالیٰ کے مقربین اولیاء اللہ اور ابرار واخیار تھے لیکن خلافت راشدہ جو تھوڑے سے عرصہ تک رہی اس کے بعد وہ کون سا مرکزی نقطہ تھا جس کے گردوہ مضبوطی سے جمع ہو جاتے۔جہاں سے اُن کو ہدایت ملتی یا جہاں سے اُن کو دعائیں ملتیں یا جہاں سے اُن کو ر ہنمائی ملتی یا جہاں سے ان کو وہ منصوبے ملتے جس کے نتیجہ میں اسلام کو ساری دنیا میں غالب کرنے کی کوشش کی جاتی۔سورۃ الواقعہ آیت ۴۰ - ۴۱