سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 347
347 سبیل الرشاد جلد دوم اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ یہ گروہ کثیر جو خدا تعالیٰ کے اولیاء اور ابرار اور اخیار پر مشتمل ہے اور پہلی تین صدیوں پر پھیلا ہوا ہے۔اُن کے اندر ہمیں وحدت نہیں نظر آتی۔کوئی حنفی ہے، کوئی مالکی ہے، کوئی شافعی ہے، کوئی حنبلی ہے۔کوئی ایک صوفی کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اور دوسروں کے ساتھ اختلاف رکھنے والا اور لڑائی مول لینے والا ہے۔کوئی دوسرے بزرگ صوفی کے ساتھ تعلق رکھنے والا ہے اور باقیوں کو پسند نہیں کرتا۔یہ ایک انتشار ہے جو امت میں پایا جاتا تھا لیکن اس کے باوجود اسلام ترقی کر رہا تھا۔خدا تعالیٰ کا منشاء یہ تھا کہ اسلام اُس وقت کی معروف دنیا میں پھیل جائے ، چنانچہ پہلی تین صدیوں میں مسلمان سپین کی طرف سے فرانس کے اندر گھس گئے۔سارا افریقہ اسلام کے جھنڈے تلے جمع ہو گیا۔اور اسی طرح دوسرے ممالک میں اسلام دُور دُور تک پھیل گیا۔گو اس عرصہ میں ارتداد کے دور بھی آئے اور ان کی بڑی لمبی تاریخ ہے لیکن جب کبھی ایسے حالات پیدا ہوئے۔خدا کے اس برگزیدہ گروہ نے تو حید کا نعرہ لگا کر خدا کے نام پر لوگوں کو پھر اکٹھا کر دیا اور اُن کو ایک بار پھر خدا تعالیٰ کی توحید اور حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کے دائرہ کے اندر لے آیا۔غرض مشرق و مغرب میں ایک مد وجزر تھا جو اسلام کے حق میں نظر آتا تھا۔مسلمان کبھی اوپر اٹھتے تھے اور کبھی نیچے گر جاتے تھے۔ان کے اندر کوئی ٹھہراؤ نہیں تھا۔امت مسلمہ میں اتفاق نہیں تھا۔وہ ایک ہی فرقے اور ایک ہی جماعت کی لڑی میں منسلک نہیں تھے۔پس یہ تصویر بنتی ہے اس گروہ کثیر کی جو خیر القرون میں پھیلا ہوا ہے۔میں پھر کہتا ہوں کوئی یہ نہ سمجھے کہ اُن کی کوئی عظمت نہیں تھی۔یقیناً اُن کی بڑی عظمت تھی۔ایک لحاظ سے تو ان کی اتنی بڑی عظمت تھی کہ بعد میں قیامت تک کوئی اُن کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔کیونکہ اس گروہ کثیر کے پہلے حصہ نے حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں آپ کے مبارک قدموں میں بیٹھ کر آپ سے روحانی فیوض حاصل کئے تھے۔اگر مجھے ایک لمحہ کے لئے یہ شرف مل جائے تو میں ہزار زندگیاں اس ایک لمحہ پر قربان کرنے کے لئے تیار ہوں۔میں تو اس وقت اُس مجموعی شکل کی بات کر رہا ہوں جو اسلام کی پہلی تین صدیوں یعنی خیر القرون کے اندر ہمیں نظر آتی ہے اور وہ یہ ہے کہ اُس وقت مسلمانوں میں وحدت نہیں پیدا ہو سکی۔وہ فرقہ فرقہ بن گئے۔اس کے بعد پھر میج اعوج کا زمانہ آ گیا اور اس کے اندر تو پھر جو دراڑیں پڑ گئی تھیں اُن کے فاصلے بڑھنے شروع ہوئے اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ مسلمان کی تلوار نے مسلمان کی گردن اڑانی شروع کر دی۔مسلمانوں نے تو سیاست میں بھی بہت ترقی کی تھی لیکن سیاست بھی اختلافات کا شکار ہو گئی اور اس میں بھی تفرقہ نظر آنے لگ گیا۔چنانچہ محمد بن قاسم جس نے خدا تعالیٰ پر بھروسہ کر کے نہایت بے سروسامانی کی حالت میں برصغیر پاک و ہند میں قدم رکھا تھا اور کہا تھا کہ جس خدا کے نام کو بلند کرنے