سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 316
316 سبیل الرشاد جلد دوم کافی نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے ایک اور قانون کام کر رہا ہے جو ہمارے سامنے نہیں آتا۔وہ عام طور پر معجزانہ شکل میں ہمارے سامنے آتا ہے۔تو میں بھی دیکھوں کہ یہ کیا بات ہے۔چنانچہ بہت سے پتے جھڑ رہے تھے بہت سے سبز تھے اور بہت سے بالکل زرد ہو گئے تھے۔ایک رات میں نے ایک چھوٹی سی ٹہنی کو دیکھا جس کے پتے زرد تھے اور اس کے ساتھ ملی ہوئی ایک اور ٹہنی تھی جو بالکل زرد ہو چکی تھی۔اس میں کوئی جان نہیں تھی۔مُردہ ہو چکی تھی لیکن اُن کے ساتھ کچھ پتے تھے جو ابھی سبز تھے۔اُن میں ابھی زردی نہیں آئی تھی۔میں نے اُن کو نشان لگا دیا۔اگلی صبح کو جا کر خدا کا یہ نشان دیکھا کہ سبز پتہ زمین پر گرا ہوا تھا اور زرد پتہ اپنی جگہ پر تھا۔غرض قانونِ قدرت اپنی جگہ کام کر رہا ہے لیکن قانونِ قدرت کے پیچھے خدا کا ایک اور قانون کام کر رہا ہے۔جو اپنے وقت پر مجزا نہ شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔دوست نوع انسانی کے لئے دعا کریں: پس دوستوں سے میں یہ کہتا ہوں کہ وہ دُنیا کے لئے دعا کریں۔یہ ایک طفل تسلی نہیں ہے بلکہ یہ ایک حقیقت زندگی ہے۔دوست دعا کریں۔دُنیا اس وقت ان کی دعاؤں کی محتاج ہے۔خدا تعالیٰ اپنے فضل سے نوع انسانی کو یہ توفیق عطا کرے کہ وہ حقیقت زندگی کو سمجھیں اور اللہ اور اس کی صفات کا عشق اُن کے دل میں پیدا ہو اور اسلام کی حقانیت اُن کے دل میں سمندر کی طرح موجزن ہو جائے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیار اُن کی روح کی غذا بن جائے اور وہ بحیثیت نوع انسانی خدا تعالیٰ کے اُن انعاموں کے وارث بن جائیں جن فضلوں اور رحمتوں کے حصول کے لئے نوع انسانی کو پیدا کیا گیا ہے۔غرض دُنیا آپ کی دعاؤں کی محتاج ہے اور دُعا محض دکھاوے کی کوئی چیز نہیں ہے بلکہ یہ ایک حقیقت ہے۔یہ ایک اثر رکھنے والی چیز ہے۔ساری دُنیا کے ڈاکٹر انسانوں کو جو Tonics دیتے ہیں وہ مل کر بھی انسان میں اتنی طاقت نہیں پیدا کر سکتے جتنی طاقت ایک مقبول ہونے والی دُعا پیدا کر سکتی ہے۔دُعا انسان کو موت سے نکال کر ایک صحت مند زندگی کی رفعتوں تک پہنچا دیتی ہے۔جولوگ خود کو جماعت کا دشمن سمجھتے ہیں دوست اُن کے لئے بھی دُعا کریں کیونکہ ہمارے وجود کی ایک ہی غرض ہے اور وہ یہ ہے کہ نوع انسانی اپنے رب کو پہچاننے لگے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوع انسانی پر جو احسانات کئے ہیں اُن کی گرویدہ ہو جائے اور آپ کی صداقت کو ماننے لگ جائے۔غرض دُعا شروع کرنی ہے مگر پہلے اپنے لئے دُعا کرنی ہے۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں : پس تم سوچ لو کہ خدا تعالیٰ کی ناراضگی سے کیونکر تم بچ سکتے ہو۔اگر تم خدا