سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 301 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 301

سبیل الرشاد جلد دوم 301 کو آخر بھٹو صاحب نے اپنی تقریر میں کہا کہ موجودہ زمانہ ( ماڈرن ٹائمنر ) میں ایسی باتیں تو نہیں کی جا سکتیں جن سے ساری دُنیا بھڑک اُٹھے کہ یہ کیا ہو گیا۔تم یہ کیا کر رہے ہو۔اس واسطے اس زمانہ میں رہنے والے ایک سیاسی دماغ نے بڑی ہوشیاری کے ساتھ اپنے خیال کا اُس دن اظہار کیا جس سے اُن کا اصل مطلب ظاہر ہو جاتا ہے۔لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ ہمارے بہت سے مخالف جھوٹ کو جائز سمجھتے ہیں بلکہ بعض دفعہ تو حیرانی ہوتی ہے کہ جہاں تک ہماری مخالفت کا تعلق ہے بعض لوگ تو ایسے بھی ہیں جن کا اوڑھنا بچھونا ، کھانا پینا اور رہنا سہنا سوائے جھوٹ کے اور کچھ نہیں ہے۔چنانچہ گزشتہ مشاورت پر میں نے تقریر کی تو انہوں نے ایک جگہ یہ لکھ دیا گیا کہ مرزا ناصر احمد نے یہ کہا ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت ہمیں غیر مسلم نہیں کہہ سکتی۔حالانکہ میں نے اس کے الٹ کہا تھا۔میں نے تو کہا تھا کہ دنیا جو چاہے ہمیں کہتی رہے۔آخر ۸۰ سال سے ہم اپنے متعلق غیر مسلم کا لفظ سنتے آئے ہیں اور اس کے مقابلہ میں خدا تعالیٰ کا جو ر ڈ عمل ہے یعنی پیار کا اور محبت کا اور نصرت کا اور مددکا۔وہ دیکھتے آئے ہیں۔ہمیں کیا فرق پڑتا ہے۔پس میں نے تو یہ کہا تھا کہ دُنیا ہمیں جو چاہے سمجھے پا کہے مگر لکھنے والے نے یہ لکھ دیا کہ دُنیا کی کوئی طاقت ہمیں غیر مسلم نہیں کہ سکتی۔گویا کہ ہم لنگوٹے گس کر گشتی کرنے کے لئے اکھاڑے میں آگئے ہیں۔ہمیں کشتی کرنے کی کیا ضرورت ہے۔میں نے تو بتایا ہے کہ ہمارا موقف ہی یہ ہے کہ جب ہمیں مدد کی ضرورت پڑے، جب ہمیں دُکھ پہنچایا جائے ، جب ہمیں تکلیف محسوس ہو تو ہم اپنے پیار کرنے والے رب کی محبت اور اس کے پیار میں نہاں ہو جاتے ہیں۔ھے 66 نہاں ہم ہو گئے یار نہاں میں پس میں نے جو کہا تھا لکھنے والے نے اُس کے اُلٹ بیان کر دیا تا کہ اس طرح شاید پیپلز پارٹی کو غصہ آ جائے۔اگر پیپلز پارٹی کے کرتا دھرتا صاحب اختیار و اقتدار لوگ سمجھدار ہیں تو اُن کو کیوں غصہ آئے گا۔وہ تو بات سمجھ گئے کہ میں نے بات وہی کی ہے جو بھٹو صاحب نے ۷ ستمبر کو کی تھی۔تم جو مرضی چاہو کہو لیکن ہم اپنے متعلق جو سمجھتے ہیں کہ ہم ہیں ، ہم اس کا اعلان کرتے ہیں۔میں نے مولوی دوست محمد شاہد صاحب کو کہا تھا کہ وہ مجھے بھٹو صاحب کی تقریر کا اردو تر جمہ دے جائیں لیکن انہوں نے مجھے پشتو کا ترجمہ بھجوا دیا اس لئے میں مجبور ہوں کہ بھٹو صاحب نے جو اصل زبان اختیار کی تھی یعنی انگریزی ، اس میں سے بعض حصے پڑھوں۔چنانچہ جو ترمیم پاس ہوئی اُس کے آخری الفاظ یہ تھے۔"Is not a Muslim for the purposes of the Constitution or Law۔" کہ دستور یا قانون کی اغراض کے لئے احمدی " Not Muslim" ہو گا یعنی وہ مسلمان نہیں سمجھا