سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 287 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 287

سبیل الرشاد جلد دوم 287 کی حیثیت میں میں تمہیں یہ چیلنج کرتا ہوں اور پوری ذمہ داری سے کہتا ہوں کہ تم اب بھی اس چیلنج کو قبول نہیں کرو گے اور اگر قبول کرو گے تو کامیاب نہیں ہو گے۔جب میں نے یہ چیلنج دہرایا تو میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ اگر بے وقوفی سے انہوں نے یہ چیلنج قبول کر لیا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے سورہ فاتحہ کی مختلف پہلوؤں سے جو تفسیر فرمائی ہے وہ اکٹھی نہیں ہے بلکہ آپ کی مختلف کتابوں میں بکھری ہوئی ہے۔اگر انہوں نے کہا کہ کہاں ہے سورہ فاتحہ کی وہ تفسیر جس کا مقابلہ کرنے کی تم ہمیں دعوت دے رہے ہو؟ تو ہم اُن کو کتابی صورت میں نہیں دکھا سکیں گے۔چنانچہ ہمارے کارکنوں کو جس حد تک توفیق ملی انہوں نے سورہ فاتحہ کی تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مختلف کتابوں سے اکٹھی کی اور ایک نہایت حسین اور نہایت مؤثر اور نہایت ہی جامع تفسیر کتابی صورت میں شائع ہوگئی۔سورہ فاتحہ کی جامع تفسیر عیسائیوں نے سورہ فاتحہ کی اس تفسیر کا کیا مقابلہ کرنا ہے عیسائیت کی تعلیم تو اس کی گرد کو بھی نہیں پہنچ سکتی۔کیونکہ وہ پچھلے زمانوں کے لئے تھی ، اب بدل گئی یا پیچھے رہ گئی۔اگر نہ بدلتی تب بھی یہ قرآن کریم کا مقابلہ نہ کر سکتی۔کیونکہ عیسائیت کی تعلیم محدود زمانہ کے لئے تھی دوسرے اس میں تحریف ہو گئی۔اس میں تبدیلیاں ہو گئیں۔لیکن قرآن کریم ایک جامع کتاب ہے۔اس کی تعلیمات کا دائرہ قیامت تک ممتد ہے اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی۔تفسیر سورہ فاتحہ کا انگریزی ترجمہ بھی ہو چکا ہے لیکن اب تک کسی کو یہ جرات نہیں ہوئی کہ وہ اس چیلنج کو قبول کرے حالانکہ میں نے اُن کو یہ چیلنج با قاعدہ لکھ کر اور انگریزی میں ترجمہ اور ٹائپ شدہ صورت میں اُن کے ہاتھوں میں پکڑایا تھا۔کیونکہ میں نے سمجھا زبانی بات ہو گی تو شاید یہ بھول جائیں گے، اس لئے جب میرا اُن سے دو گھنٹے کا انٹر ویوختم ہوا تو میں نے یہ کہتے ہوئے اس چیلنج کو ڈ ہرایا کہ اب میں تمہیں دو چیلنج دیتا ہوں۔یہ لکھے ہوئے ہیں ، ان کو لے لو اور اُن میں سے ایک سورۃ فاتحہ کے متعلق تھا۔جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے۔میں آج ان کا ذمہ دار ہوں۔تم اپنے گھروں میں جا کر سوچو اور اپنے بڑے اور چھوٹے پادریوں اور ہم پلہ لوگوں سے مشورہ کرو۔مگر ۱۹۶۷ ء میں حضرت مہدی معہود و مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے تیسرے خلیفہ نے جو چینج دُہرایا تھا عیسائیوں میں سے اب تک کوئی سامنے نہیں آیا۔مجھ سے پہلوں نے بھی یہ چیلنج دیئے اور بار بار ڈ ہرائے۔عیسائیوں کو بار بار یاد دہانی کرائی گئی مگر وہ مقابل پر نہ آئے۔کیا ہم ان تفاسیر کو جو ایسے حقائق اور معارف پر مشتمل ہیں جن کے مقابلے کی کسی کو حجرات نہیں ہوسکی اور نہ کبھی ہوگی ، اُن کو چھوڑ کر صرف اُن تفاسیر پر قانع ہو جائیں جن میں نعوذ باللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو