سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 268 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 268

سبیل الرشاد جلد دوم 268 آئے۔حیدر آباد سے آئے۔پھر تھر پارکر سے بھی آئے جو حیدر آباد کے پرلے سرے پر ہے۔جہاں ہماری زمینیں ہیں۔کوئی ۴۹ کا ایک گروپ وہاں سے آیا۔اور کچھ راستہ میں ان سے ملے۔یہ لوگ اسی توے میل روزانہ کا فاصلہ طے کرتے ہوئے۔گویا چھلانگیں لگاتے یہاں پہنچ گئے۔جب میں نے انصار سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ انہیں بھی سائیکل چلانے کی مشق کرنی چاہئے۔تو ہمارا جو۵ ۷ سال کا عہدیدار ہے وہ تو سوچے گا کہ میں اتنا سائیکل کیسے چلا سکتا ہوں وہ صیح سوچے گا کہ ۷۵ سال کی عمر میں سو میل روزانہ سائیکل نہیں چلایا جا سکتا۔لیکن خالی وہ یہ نہیں سوچتا کہ میں نہیں چلا سکتا بلکہ اس سے وہ یہ نتیجہ نکالتا ہے کہ انصار اللہ کا یہ کام نہیں۔اور یہ نہیں سوچتا کہ جس وقت ایک صاحب عزم و ہمت احمدی انتالیس سال کی عمر میں اور چالیسویں سال میں سو میل سائیکل چلا سکتا ہے تو وہی شخص ایک سال کے بعد انصار اللہ میں داخل ہو کر سو میل سائیکل کیسے نہیں چلا سکتا۔یقیناً چلا سکتا ہے۔پس اسی لئے ایک تجویز میرے ذہن میں یہ آئی ہے کہ آج میں انصار اللہ کی دو صفیں مقرر کرتا ہوں۔اُن کی صف اول تو بزرگوں کی صف ہے۔کیونکہ اُن کا زیادہ تر کام اسی نوعیت کا ہے۔لیکن انصار اللہ کی ایک صف دوم ہوگی۔جس کی عمر ۴۰ سے ۵۵ سال کی ہوگی۔میں اس سوچ میں تھا۔بعض سے مشورہ کیا۔تو اُنہوں نے یہ مشورہ دیا کہ ۵۵ سال کا کون سا بوڑھا ہو جاتا ہے۔احمدی تو ۵۵ سال میں بوڑھا نہیں ہوتا۔الا ماشاء اللہ۔بیماریاں بھی انسان کے ساتھ لگی ہوئی ہیں۔پس ۴۰ سال سے ۵۵ سال کی عمر تک کی صف دوم اور ۵۵ سال سے زائد کی صفِ اوّل، یہ دو صفیں ہو جائیں گی۔اور انصار اللہ میں صدر مجلس انصار اللہ کے ساتھ ایک نائب صدر مجلس انصار اللہ ہوگا جس کی عمر ۴۰ سے ۴۷ سال کے درمیان ہونی چاہئے۔یعنی وہ اپنی عمر کے درمیان میں کہیں کھڑا ہونا چاہئے تا کہ وہ کم عمر اور بڑی عمر والوں دونوں کو سنبھال سکے۔اب اس وقت صرف صدر مجلس انصار اللہ ہیں۔اس وقت کے بعد اور اسی اجتماع میں اُس نائب صدر کا انتخاب ہوگا۔جس میں حصہ لینے والے صرف وہ انصار ہوں گے جن کی عمر ۴۰ سے ۵۵ سال کے درمیان ہے۔اور ایک مجلس انصار اللہ کے مستعد ممبر کو نا ئب صدر مجلس انصار اللہ منتخب کرو۔اور دعائیں کرو۔اور میری بھی دُعا ہو گی کہ اللہ تعالیٰ اُسے اتنی ہمت عطا کرے کہ وہ اُن کاموں میں بھی جن کا بظاہر زیادہ تعلق خدام الاحمدیہ کی عمر سے ہے۔انصار اللہ کو پیچھے نہ رہنے دے۔اور اپنی انتہائی کوشش کرے۔پھر ایک وقت میں یہ درست ہے کہ انسان اپنی عمر کے لحاظ سے قانونِ قدرت کے مطابق بعض کا م نہیں کر سکتا۔قانونِ قدرت اور خدا تعالیٰ کی حکمتوں سے نہ ہم نے جنگ کرنی ہے نہ ہم ایسا سوچ سکتے ہیں۔لیکن جب تک ہم انصار میں آنے کے بعد بھی اس قسم کے کام کر سکتے ہیں اُس وقت