سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 267 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 267

سبیل الرشاد جلد دوم 267 رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کمک کے لئے درخواست کی تو آپ نے صرف ایک آدمی کی کمک بھیجی۔اس کی تفصیل لمبی ہے پہلے بعض دفعہ میں بتا چکا ہوں۔بہر حال یہ فوج دنیا کی نگاہ میں معمولی حیثیت کی تھی۔لیکن اُن کے دل خدا تعالیٰ کے یقین سے اس قدر بھرے ہوئے تھے کہ دشمن کو اُنہوں نے یہ پیغام بھیجا کہ ہم سے لڑنے کی غلطی مت کرو تو بہت اچھا ہے۔کیونکہ جتنا پیار تمہیں اس زندگی اور اس زندگی کے عیش سے ہے اُس سے زیادہ پیار ہم موت اور جنت کی نعماء سے کرتے ہیں۔ایک مٹھی بھر فوج اتنے زبر دست دشمن کے مقابلہ میں اُسے یہ نصیحت کرتی ہے۔اُن کے سپہ سالار کو ایک ایک لاکھ روپے کے ہیرے جڑے ہوئی ٹوپی پہننے کی اجازت تھی۔جو اُن کو انعام میں ملتی تھی۔یہ بڑے منجھے ہوئے جرنیل ہوتے تھے۔جو مقابلہ میں آئے تھے۔اور اُن کے مقابلہ میں ایک چھوٹی سی فوج ، صحراء میں سے نکلی۔اُس محسن اعظم و معلم اعظم اور اُس رحمت للعالمین نے اُن کے اندر ایک عظیم تبدیلی پیدا کر دی تھی کہ وہ اپنی حقیقت کو پہچاننے لگے تھے۔پس اس دور کی اس عظیم جنگ کو اگر ہم نے کامیابی کے ساتھ لڑنا ہے تو ہمارا کوئی پہلو بھی کمزور نہیں ہونا چاہئے۔نہ ہمارے انصار کمزور ہونے چاہئیں نہ ہمارے خدام کمزور ہونے چاہئیں۔نہ ہمارے اطفال کمزور ہونے چاہئیں۔نہ ہماری ناصرات کمزور ہونی چاہئیں۔اور نہ ہماری لجنہ کی ممبرات کمزور ہونی چاہئے۔مجھے انصار اللہ میں ایک کمزوری نظر آئی ہے۔میں نے کہا تھا کہ آج کی یہ ساری باتیں دراصل پس منظر ہیں۔آج میں کچھ انتظامی باتیں کرنا چاہتا ہوں۔وہ باتیں میں مختصر ا کروں گا۔کیونکہ اُن کا تعلق عمل کے ساتھ ہے۔پھر خود ہی وہ باتیں ابتدائی ادوار میں سے گزر کر unfold۔منکشف ہوتی رہیں گی۔اور پھیل جائیں گی۔اور میں اُمید کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اُن کے اچھے نتا ئج نکلیں۔انصار اللہ کی عمر ہم نے چالیس سال سے اوپر رکھی ہے۔ہمارے عہدے دار بالعموم بڑی عمر کے ہیں۔اور ہونا بھی ایسا ہی چاہئے۔وہ تجربہ کار اور پڑھے لکھے ہیں۔جماعت کے پرانے سپاہی ہیں۔لیکن بعض کام ایسے ہیں جن کا کم و بیش تعلق نسبتاً چھوٹی عمر سے بھی ہے۔مثلاً جب میں نے خدام سے یہ کہا اور خوشی کی بات یہ ہے کہ اُس میں ہمارے بچے بھی شامل ہوئے۔خدام سے میں نے یہ کہا کہ سائیکل چلانا سیکھو اور اتنی مشق کرو کہ ایک دن میں بغیر سُلا دینے والی تھکاوٹ کے تم سومیل سائیکل سفر کر لو۔خدام کا رد عمل بڑا پیارا ہوا۔اور میں اُن کے اِس رد عمل سے بڑا خوش ہوں اور ان کے لئے ہر آن دُعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ اُن کے اخلاص میں اور اُن کی قوتوں میں برکت ڈالے۔خدام کراچی سے سائیکلوں پر