سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 260 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 260

سبیل الرشاد جلد دوم 260 جنگ اور لڑائی میں فرق ہے۔مختلف محاذوں پر مختلف اوقات میں جو لڑی جاتی ہے وہ جنگ کہلاتی ہے۔اور کسی ایک محاذ پر کسی ایک وقت میں جو معرکہ ہوا سے لڑائی کہتے ہیں۔انگریزٹی میں اس کے لئے War اور Battle کے دو مختلف الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے ساتھ شیطانی طاقتوں سے آخری جنگ شروع ہو گئی۔اور چونکہ شیطان کو ہمیشہ کے لئے مغلوب کرنا تھا اور شیطان پر روحانی طاقتوں اور عبادالرحمان کا یہ غلبہ ہمیشہ کا غلبہ تھا جس کے بعد تمام جنگیں جو بیرونی محاذ پر مذہبی طور پر لڑی جاتی ہیں وہ ختم ہو جانی تھیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے مقصود کا معراج تھا کہ نوع انسانی کو اُمتِ واحدہ بنا کر اللہ تعالیٰ کے قدموں میں اکٹھا کر دیا جائے اس لئے عقلاً بھی اور بشاراتِ ربانی کے لحاظ سے بھی اس جنگ کی آخری لڑائی آخری زمانہ کے لئے مقد تھی۔اور یہ آخری زمانہ وہ زمانہ ہے جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اُس فاتح جرنیل نے آنا تھا جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مہدی کے نام سے موسوم کیا اور مسیح کا اُسے لقب دیا اور اپنے پیار کا اس رنگ میں اظہار کیا کہ امت محمدیہ کے کروڑوں کروڑ افراد میں سے کسی کے ساتھ بھی اُس پیار کا اظہار نہیں کیا گیا۔اور وہ یہ کہ فرمایا کہ جب وہ آئے تو اُسے میرا سلام پہنچا دینا یعنی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سلامتی اور فتح کی دعائیں اُس کے ساتھ ہوں گی اور آپ نے یہ کہا کہ ”ہمارے مہدی کی یہ دو علامتیں ہیں۔اِنَّ لِمَهْدِينَا میں بڑے ہی پیار کا اظہار ہوتا ہے۔اور وہ اس لئے کہ اس روحانی جرنیل نے شیطانی طاقتوں کے ساتھ وہ آخری جنگ فاتحانہ طور پر اور کامیابی کے ساتھ لڑنی تھی کہ جو اُس جنگ کی آخری لڑائی تھی جس جنگ کی ابتداء محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے ایک رحمۃ للعالمین کی حیثیت سے شروع ہوئی۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہی ایک وجود ہیں جو اعظم ہیں۔احسان کے میدان میں دیکھیں تو آپ محسن اعظم ہیں۔علم سکھانے کے میدان میں دیکھیں تو آپ معلم اعظم ہیں۔دین کو از سرِ نو زندہ کرنے اور اسے کمال تک پہنچانے کے نقطہ نگاہ سے دیکھیں تو آپ مسجد داعظم ہیں اور رحمت کے لحاظ سے دیکھیں تو آپ رحمتہ للعالمین ہیں۔شریعت کے لحاظ سے دیکھیں تو آپ خاتم الانبیاء ہیں جن پر خاتم الکتب کا نزول ہوا۔شیطان سے جنگوں کے لحاظ سے دیکھیں تو آپ وہ قائد اعظم اور جرنیل اعظم ہیں جنہوں نے اپنی براہ راست نگرانی Direction اور ہدایت کے مطابق اپنی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں اپنی روحانی زندگی کے طفیل جو صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہے۔اس آخری جنگ کی قیادت کرنی تھی اور جس کی انتہا اُس لڑائی پر ہونی تھی جواب شروع ہو گئی جس کا تعلق مہدی معہود کے ساتھ تھا۔مہدی آگئے۔شیطان