سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 259 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 259

سبیل الرشاد جلد دوم 259 سید نا حضرت خلیفہ مسیح الثاث رحمہ اللہ تعالی کا فتاحی خطاب کا فرموده ۹ رنبوت ۱۳۵۲ بهش ۹ نومبر ۱۹۷۳ء بمقام احاطہ دفاتر مجلس انصاراللہ مرکز یہ ربوہ سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثالث رحمہ اللہ نے بر موقع ۳۰ ویں مرکزی سالانہ اجتماع مجلس انصار اللہ مرکز یہ ربوہ کی افتتاحی تقریر میں تشہد وتعوذ اورسورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: خدام الاحمدیہ کے اجتماع کے موقع پر میں نے اپنے بچوں کے سامنے یہ مضمون بیان کیا تھا اور اسی مضمون کو ایک دوسرے پیرا یہ میں ممبرات لجنہ اماء اللہ کے سامنے اور اطفال کے سامنے مختصراً دوسرے رنگ میں بیان کیا۔اور وہ مضمون یہ تھا کہ پہلی وحی کے ساتھ شیطان سے انسان کی ایک جنگ شروع ہوئی اور جیسا کہ پہلے نوشتوں میں بھی یہ خبر دی گئی تھی اور حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات بھی اسی طرف اشارہ کرتے ہیں۔شیطان سے عباد الرحمان کی یہ جنگ جو آدم سے شروع ہوئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت اپنے آخری مراحل میں داخل ہوگئی۔جب رب العالمین کی ربوبیت انسان کی تربیت کرتے ہوئے اُسے مختلف ادوار میں سے گزار کر اُس مقام پر لے آئی جہاں رب العالمین کے جلوے نوع انسانی پر ایک جیسے ظاہر کئے جاسکتے تھے تو اُس وقت رب العالمین کی طرف سے نوع انسانی کی ایک ہی وقت میں اجتماعی روحانی اور دیگر ترقیات کے لئے ایک رحمت آسمانوں سے نازل ہوئی جسے قرآنِ عظیم نے رحمۃ للعالمین کہا ہے۔یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود۔اور جیسا کہ بتایا گیا تھا بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عبادالرحمان کی شیطان اور شیطانی گروہ اور شیطانی خیالات کے ساتھ ایک آخری جنگ کا آغاز ہو گیا۔بنگل بجا دیا گیا۔اعلان جنگ ہو گیا۔اور یہ جنگ جو اُمتِ محمدیہ نے شیطانی طاقتوں اور ظلمات کی حکومت سے لڑنی تھی اسے آخری جنگ کہا گیا۔