سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 258
سبیل الرشاد جلد دوم 258 منافق کون ہے پس منافق وہ ہے جس کے دل میں یہ خواہش ہوتی ہے کہ کوئی حادثہ ایسا رونما ہو جس کی وجہ سے جماعت ہلاک ہو جائے۔کوئی بیماری پڑ جائے یا آپس میں جھگڑے پیدا ہو جائیں یا کسی جماعت کے ٹوٹنے کے سامان پیدا ہو جائیں وغیرہ وغیرہ۔پتہ نہیں منافق کیا باتیں سوچتا ہوگا۔لیکن اس میں بھی وہ نا کام ہوتا ہے۔پھر جس وقت معاند اور دشمن اسلام، اسلام کو مٹانے کے لئے حملہ آور ہوتا ہے۔مثلاً جس وقت کفار مکہ ایک ہزار لشکر جرار کے ساتھ مدینہ پر حملہ آور ہوئے۔تو ان کے مقابلہ میں قریباً ایک تہائی مسلمان تھے اور قریباً نہتے تھے۔مسلمانوں کے پاس کفار کے مقابلہ میں فوجی ساز د سامان بھی بہت تھوڑا تھا۔اس وقت ایک منافق اس انتظار میں تھا کہ اب دشمن آ گیا ہے۔چمکدار تلواریں ( سیوف ہندی اس وقت بڑی مشہور تھیں ) ان کے ہاتھ میں ہیں، گھوڑے ہیں ، اونٹنیاں ہیں ، کھانے کا سامان ہے ، جتھہ ہے اتحاد ہے، مال و دولت ہے اور ان کے مقابلہ میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ بالکل غریب پھٹے ہوئے کپڑوں میں ٹوٹی ہوئی اور زنگ آلود تلواروں کے ساتھ کفار کے ساتھ کیا لڑیں گے۔آج تو ان کے لئے (نعوذ باللہ ) موت کا دن ہے۔سبیل الرشاد جلد دوم صفحہ 239-238)