سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 251
251 سبیل الرشاد جلد دوم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات وصفات ، آپ کی انسانی خدمات ، آپ کا احسان اور وہ حسن جو خدا نے آپ کے اندر پیدا کیا وہ اس بات کا شاہد ہے کہ جب کوئی چیز محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت یا خوبی کے یا آپ کے کسی حسن و احسان یا آپ کے کسی نور کے مقابلہ میں آئے گی تو دھتکار دی جائے گی۔اسے ہم نے نہیں لینا۔منافقوں کو بھی یہ سمجھاؤ۔ہم کو قرآن کریم نے جیسا کہ فرمایا۔إِحْدَى الْحَسْنَین گووه ایک خاص Context میں کہا گیا ہے۔لیکن جب دشمن سے لڑائی ہو تو اس وقت دو ہی چیزیں ہوتی ہیں۔یا شہادت یا ظفر اور کامیابی ملتی ہے۔تیسری چیز کوئی نہیں ہوتی لیکن خدا تعالیٰ نے تو ہمارے ساتھ اتنے حسن کے ، اتنی خوبیوں اور اچھائیوں کے وعدے کئے ہیں کہ ان کا شمار کوئی نہیں۔ہر ضمن میں ہر زاویہ نگاہ سے آپ دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ ہم پر خدا تعالیٰ کی بے شمار مہر بانیاں ہیں۔قرآنِ کریم نے کہا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کے احسانوں کو گننا چاہو تو نہیں گن سکو گے۔بارش کے قطرے گنے جا سکتے ہیں۔لیکن خدا تعالیٰ کے احسانات اور اس کی نعمتوں کو نہیں گنا جا سکتا۔خدا تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک مبارک وجود ہم پر احسان کرنے کے لئے ، خدا کے حسن کے جلوے اپنی زندگی میں ہمیں دکھانے کے لئے مبعوث کیا تھا۔آپ کی تعلیم کے مقابلہ میں منافق کے دل میں شیطان بنیادی طور پر یہ تین بدصفات پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔لیکن ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن و احسان کے جلوے دیکھے ہیں۔ہم یہ جانتے ہیں کہ شیطان شیطان ہے۔وہ جعل سازی کرتا ہے۔دھو کے دیتا ہے اور فریب کرتا ہے جو لوگ اپنی بدقسمتی کے نتیجہ میں یہ نہیں سمجھتے ان کو فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ ، سے بچانے کے لئے آپ کو چوکس اور بیدار رہ کر اُن کی اصلاح کی کوشش کرنی پڑے گی۔تا اللہ تعالیٰ کی توفیق کے ساتھ یہ ذمہ داری بھی میں اور آپ خدا تعالیٰ کے فرمان اور منشاء کے مطابق نباہ سکیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔یہ اجتماع آج ختم ہو رہا ہے۔آخری رپورٹ جو مجھے پہنچی ہے اس کے مطابق خدام الاحمدیہ اپنی مجالس کی تعداد کے لحاظ سے ( جو اس دفعہ اجتماع میں شامل ہوئی ہیں ) دو مجالس آپ سے آگے نکل گئی ہے۔اور آپ دو مجالس سے پیچھے رہ گئے ہیں۔میں نے لجنہ اماءاللہ کو کل خطاب کیا تھا۔اس میں میں نے ان کو بتایا تھا کہ اپنا دائرہ خدمت بڑھاؤ۔عورتوں کی بعض مجبوریاں ہیں اس واسطے جب ہم مجالس کی طرف سے شمولیت اور ان کی حاضری کو دیکھتے ہیں تو اس معیار پر ہم ان کو نہیں پر کھ سکتے۔لیکن بہر حال جس حد تک ممکن ہو ان کو بھی زیادہ سے زیادہ تعداد میں اپنے اجتماع میں شامل ہونا چاہئے۔چنانچہ اس دفعه لجنہ کی ۱۵۱/۱۵۰ مجالس لجنہ اماءاللہ کے اجتماع میں شامل ہوئی ہیں۔یہ تعداد پہلے کے مقابلہ میں بہت