سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 250 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 250

سبیل الرشاد جلد دوم 250 رحمت ہے پس ہم اس خدا کی طرف جھکیں گے ہمیں شیطان مردود سے کیا تعلق اور کیا واسطہ۔سوائے اس کے جن کی گردن اس کے ہاتھ میں ہے۔اس وقت ہم آگے بڑھیں گے اور شیطان کا پنجہ پکڑ کر اس کو ان کی گردن سے ہٹانے کی کوشش کریں گے۔تا کہ ہمارا ایک دوسرا بھائی اس کے شر سے محفوظ ہو جائے۔ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں اس کے یعنی منافقت کے بداثرات کو مٹانا ہمارا اصل مقصد ہے۔اب پھر میرے کانوں میں کچھ منافقوں کی بعض باتیں پڑی تھیں تو میری توجہ اس طرف پھری کہ قرآن کریم کا ارشاد ہے کہ سال میں ایک دوبار ان کو آزمائش میں ڈالا کرو۔ان کے متعلق قرآنی احکام بیان کیا کرو۔سو میں نے آج کچھ احکام بیان کر دیئے ہیں۔خدا تعالیٰ نے ان آیات کی طرف توجہ پیدا کی جب میں نے ان آیات کا آپس میں جوڑ کے متعلق غور کیا تو مجھے بڑا لطف آیا۔اللہ تعالیٰ بڑا اچھا اور بہترین معلم ہے میں منافقوں کے متعلق پڑھ رہا تھا کہ اتفاقاً میری نظر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ان تین خوبیوں پر پڑ گئی ویسے تو منافقین کے متعلق سورۃ توبہ میں تفصیل سے بیان ہوا ہے۔لیکن سورہ حدید میں ان کی ان علامتوں کو اکٹھا کر دیا گیا ہے۔پس قرآن کریم ایک عظیم کتاب ہے یہ اتنی عظیم کتاب ہے کہ اس کی عظمت کا آپ اندازہ نہیں کر سکتے۔اس لئے اس سے پیار کریں۔آنکھیں بند کر کے پیار کریں کیونکہ جب بھی آپ نے آنکھ کھولی۔اس کی عظمت کو اور بھی زیادہ بڑھا ہوا پایا۔کسی کو اس کا دھوکا نہیں لگ سکتا۔جو چیز ٹھنڈی ہے اور اس کی ٹھنڈک کو آپ کی انگلیوں نے محسوس کیا ہے اس کے بعد آپ اس گلاس میں جس میں وہ چیز پڑی ہوئی ہے آنکھیں بند کر کے ہاتھ ڈال دیں گے۔جو چیز پھینک رہی ہے اور اس کا ذرا سا بھی چھینٹا پڑ جائے تو آپ کو اس کی جلن محسوس ہوتی ہے۔آپ آنکھیں بند بھی کریں تو اس کی طرف آپ کا ہاتھ نہیں بڑھے گا۔غرض قرآن کریم کی عظمت کو ہم نے خود اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا۔قرآن کریم کی عظمتوں کو اپنی زندگیوں میں مشاہدہ کیا۔ہم نے قرآن کریم کی مٹھاس اپنی زبان سے چکھی۔اس کی سریلی آواز کو ہمارے کانوں نے سنا۔اس کی نہایت ہی اعلیٰ درجہ کی خوشبو کو ہمارے ناکوں نے سونگھا۔ہمارے سارے حواس اس کی عظمت کے قائل اور اس کی بڑائی کے مداح ہیں۔اس کو ہم نہیں چھوڑ سکتے۔قرآن کریم ہمیں یہ کہتا ہے اور وضاحت سے بیان کر کے کہتا ہے اور کوئی الجھن اور شک باقی نہیں چھوڑتا۔چنانچہ منافقین کے اس بیان میں بھی کہتا ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ یہ خوبیاں ہیں (جس کی تفصیل قرآن کریم نے دوسری جگہ بھی بیان کی ہے ) ان خوبیوں کے بعد شیطان اگر اس کے برعکس وسوسہ پیدا کر کے اور شکوک وشبہات پیدا کر کے نفاق پیدا کرنا چاہے تو تم شیطان کو دھتکار دو۔کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ محمد ہست بر ہان محمد