سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 236 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 236

سبیل الرشاد جلد دوم 236 کو بچایا جا سکتا ہے، اُن ذرائع کے ساتھ اور اُن طریقوں کو بروئے کارلاتے ہوئے جو اللہ تعالیٰ نے خود ہی قرآن کریم میں بیان کر دیئے ہیں۔ہم تیسرا نتیجہ یہ اخذ کرتے ہیں کہ اس گروہ کی ہدایت کے لئے ہر ممکن کوشش ہونی چاہئے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جو ہدایت کے سامان پیدا کئے ہیں۔اور جو ہدایت میں ترقیات کے سامان پیدا کئے ہیں وہ صرف کافر و مومن ہی کے لئے نہیں بلکہ کافر و مومن کے علاوہ منافق کے لئے بھی ہیں۔اس لئے جہاں ہمارا یہ فرض ہے کہ تکمیل اشاعت ہدایت میں منکرینِ اسلام پر دنیا کے جس مقام پر بھی ہوں وہاں قرآن عظیم کی عظیم روحانی طاقت کے ساتھ جارحانہ حملے کر یں۔وہاں ہمارے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ جو ہمارے اندر منافق پائے جاتے ہیں ، ان کی اصلاح کی کوشش بھی کریں۔دلیل کے ساتھ بھی اور سمجھا کر بھی اور دعاؤں کے ساتھ بھی کہ اللہ تعالیٰ اس بد بخت گروہ کو جن کے لئے اسی کے فرمان کے مطابق جہنم کی سب سے نچلی ، سب سے زیادہ دکھ دینے والی جگہ مقرر کی گئی ہے ، انہیں اپنے فضل۔سے یہ توفیق عطا فرمائے کہ وہ اس نہایت ہی بھیا نک عذاب سے خود کو بچاسکیں اور ہدایت پا جائیں۔تاہم کچھ ہدایت پا جاتے ہیں مگر اکثر جہنم کے نچلے حصے کی زینت بن جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ اس سے ہر شخص کو محفوظ رکھے۔بہر حال قرآن کریم میں جو کثرت سے منافقین اور ان کے نفاق کا ذکر آیا ہے۔اس سے یہ تین نتیجے نکلتے ہیں جن کا میں نے ابھی مختصراً ذکر کیا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں جس کی میں نے ابھی تلاوت کی ہے۔ان کی اصلاح کے لئے ایک پُر حکمت طریق بیان فرمایا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کیا وہ دیکھتے نہیں کہ سال میں ایک دو بار ان کو آزمائش میں ڈالا جاتا ہے۔ان کو آزمائش میں اس لئے ڈالا جاتا ہے کہ وہ تو بہ کریں اور خدا تعالیٰ کی طرف جھکیں اور اس کا ذکر کریں۔لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بہت سے تو بہ بھی نہیں کرتے اور خدا تعالیٰ کی طرف رجوع بھی نہیں کرتے۔بہر حال اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ سال میں ایک دو بار منافقوں کو آزمائش میں ڈالا جانا چاہئے۔اور منافق کی سب سے بڑی آزمائش یہ ہے کہ منافقین کے متعلق قرآن کریم کی جو تعلیم ہے اسے جلسوں میں ، تقاریر میں کھلے بندوں بیان کیا جائے۔اس لئے گاہے گاہے اس قسم کی تقاریر اللہ کے حکم اور اسی کی ہدایت کے مطابق ہوتی ہیں جن میں کسی کا نام تو نہیں لیا جا تا صرف یہ کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے منافق کی یہ علامت بیان فرمائی ہے اور اس کے بعد مثلاً میں اگر تقریر کروں تو میرے پاس خط آ جاتے ہیں۔کوئی کہتا ہے میں تو منافق نہیں۔کوئی کہتا ہے فلاں تو منافق نہیں ہے۔تمہارے دل میں چور تھا وہ نکل آیا۔نانوے ہزار نانو مخلصین کے دل میں