سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 228 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 228

سبیل الرشاد جلد دوم 228 طالب علم امتحان کی تیاری کرتا ہے وہ تو ایک دن کے لئے بھی اپنا امتحان ملتوی نہیں کروانا چاہتا۔لیکن جو طالب علم تیاری نہیں کرتا وہ کہتا ہے دو مہینے اور مل جائیں۔وہ اس میں بھی نہیں پڑھتا پھر کہتا ہے کہ اچھا دو مہینے اور مل جائیں۔چنانچہ انہی ہنگاموں اور سٹرائکس (Strikes) کی وجہ سے اب اس سال کے بہت سارے امتحان اگلے سال کے امتحانوں کے قریب قریب چلے گئے ہیں۔اس سے مجھے بڑا دکھ ہوتا ہے اور بڑی پریشانی ہوتی ہے خصوصاً جب میں یہ سوچتا ہوں کہ کچھ احمدی بچے بھی اس گندے ماحول اور گندی فضا سے متاثر ہوتے ہیں۔لیکن اگر ہماری تعلیمی کوششیں یعنی حصول علم کی کوششیں محض حصول علم کے لئے نہ ہوں بلکہ علم کو دوسروں تک پہنچانے کے لئے یا سکھانے کے لئے بھی ہوں۔اگر ہمیں یہ نظر آ رہا ہو کہ افریقہ میں اس وقت کئی لاکھ اساتذہ کی ضرورت ہے۔جب آپ اس غرض کے لئے پڑھیں گے اور علم حاصل کریں گے تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ خدا تمہیں بھوکا نہیں مارے گا۔تمہاری اس نیت کے نتیجہ میں شاید تمہیں اس دنیا میں بھی دوسروں سے زیادہ دے دے اور اگلی دنیا میں جو تمہیں جزا ملنی ہے وہ یقیناً ملنی ہے۔اُس کا تو حساب ہی کوئی نہیں۔پس ایک احمدی مسلمان کو اس نیت سے پڑھنا چاہئے کہ اس نے صرف اپنے یا اپنے خاندان کی ضرورتیں پوری نہیں کرنی بلکہ خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا اور اس کے کان میں بڑے پیار سے یہ آواز پہنچائی کہ تم اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ کی رو سے لوگوں کی بھلائی کے لئے پیدا کئے گئے ہو۔تم الناس“ یعنی ساری دنیا کے عوام کی خدمت کرنے کے لئے پیدا کئے گئے ہو۔تمہارا دائرہ عمل اپنے نفس یا اپنے قبیلے یا اپنی قوم یا اپنے ملک تک محدود نہیں ہے بلکہ ساری دنیا کے عوام کی جو حدود ہیں ان کی آخری حدوں تک پھیلا ہوا ہے۔اگر ہم اپنا وقت ضائع نہ کریں ، اگر ہم اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو سمجھیں تو ہم دنیا سے آگے نکل سکتے ہیں لیکن اس وقت تک ہم نہیں نکل سکے۔یہ ایک حقیقت ہے اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔یہ نعرہ لگانا کہ ہم ساری دنیا سے علم میں آگے نکل جائیں گے لیکن پڑھنے کی بجائے جلوس نکالنے لگ جائیں تو اس کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔یہ تو قول اور فعل میں تضاد کے مترادف ہے۔کبھی نعروں کے ساتھ بھی کسی نے علم حاصل کیا ہے۔یا ایجادات کی ہیں؟ مثلاً آئن سٹائن تھا یا دوسرے بڑے بڑے سائنسدان تھے یا ڈاکٹر سلام ہیں۔انہوں نے بڑی ریسرچ کی ہے اور علمی میدان میں نئی سے نئی دریافتیں کی ہیں۔کیا انہوں نے نعرہ لگا کر کی ہیں؟ نہیں انہوں نے دن رات سوچ کر اور دعائیں کر کے اور محنت کر کے اور خلوص نیت کے ساتھ کوشش کر کے نئی چیزیں دریافت کی ہیں۔نئی نئی چیزیں دریافت کرنے کا یہی عمدہ طریق اور بہترین اصول ہے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے انسان تیرا نفس ہی نہیں ، یا تیرا خاندان ہی