سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 227 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 227

227 سبیل الرشاد جلد دوم محمد ود ما حول تک نہیں ہے بلکہ وہ افریقہ تک جاتی ہے ، وہ امریکہ تک جاتی ہے وہ آسٹریلیا تک جاتی ہے وہ یورپ تک جاتی ہے وہ روس تک جاتی ہے ، وہ چین تک جاتی ہے وہ جزائر تک جاتی ہے اور ہر ضرورت کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔یعنی صرف جسمانی ضرورت نہیں یا صرف تعلیمی ضرورت نہیں بلکہ اس نے ہر ضرورت انسانی کو اپنی اس ذہنیت کے اندر سمیٹا ہوا ہے۔ہر احمدی اپنی زندگی کی جد و جہد میں یہ کوشش کرتا ہے اور کہتا ہے کہ جو میری ذمہ داری افریقہ کے عوام کی غذائی ضرورتوں کو پورا کرنے والی ہے میں پورا زور لگا کر لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا اپنی جگہ پر درست ہے ) یہ کوشش کروں گا کہ اس کی مددکر سکوں۔اگر ہم سب یہ جملہ معترضہ ہے، پاکستان میں ایسا کر لیں تو ہم بھک منگے بننے کی بجائے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کے ماتحت دوسری اقوام کی غذائی ضرورتوں کو پورا کرنے والے بن جائیں گے اور بن سکتے ہیں کیونکہ ایک مسلمان جب خلوص نیت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی طاقتوں کو اس کی مخلوق کی بھلائی کے لئے خرچ کرتا ہے تو اس کے نتائج دوسروں کی کوششوں سے بہر حال زیادہ اچھے نکلتے ہیں اور نکلنے بھی چاہئیں۔یہ اللہ تعالیٰ کا ہمارے ساتھ وعدہ ہے اور اکثر حالات میں اچھے نتائج نکلتے بھی ہیں۔بہت سے لوگ ہیں جن کا اپنا ذاتی مشاہدہ ہے۔میرا بھی ایک ذاتی مشاہدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ، اس محاورہ کے مطابق کہ اللہ تعالیٰ چھپڑ پھاڑ کر دیتا ہے یا آسمان پھاڑ کر دیتا ہے ، اس طرح وہ بے حساب دیتا ہے۔لیکن خلوص نیت ہونا چاہئے۔تا ہم صرف غذائی ضرورتوں کا سوال نہیں۔انسان کی غذائی یا دوسری جسمانی ضرورتوں کے علاوہ مثلا تعلیمی ضرورتیں ہیں۔انسان کی تعلیمی دور محض اپنے تک محدود نہیں رہنی چاہئے۔اب ان دنوں گندے ماحول کا ہمارے احمدی طلباء کے ذہنوں پر بھی اثر پڑا ہے۔وہ سمجھتے ہیں اور آج کل یہ خیال عام ہے کہ ہنگامے کروڈ گریاں مل ہی جائیں گی۔سٹرانکس(Strikes) کریں گے اور ڈگری لے لیں گے گویا اب ڈگریاں لینا بڑا آسان ہو گیا ہے۔پہلے طالب علم بڑی محنت کیا کرتا تھا۔آدھی آدھی رات تک جاگتا اور محنت کرتا تھا۔ہم خود طالب علمی کے زمانے میں آدھی آدھی رات تک پڑھتے رہے ہیں۔ہمیں یہ فکر لگا رہتا تھا کہ اگر محنت نہیں کریں گے تو اچھے نمبر نہیں لیں گے۔یا پاس نہیں ہوں گے۔لیکن اب آسان ہو گیا ہے۔بس ایک جلوس نکالو۔نعرہ لگاؤ اور جس کسی معصوم دکاندار کی دکان سامنے آ جائے اس کے شیشے توڑ دو۔اب بتاؤ اس دکاندار کا کیا قصور ہے۔حکومت اگر تمہیں ڈگریاں نہیں دیتی تو اس میں اس بے چارے دکاندار کا تو کوئی قصور نہیں ہے لیکن یہ فیشن بنالیا گیا ہے کہ اس طرح اپنا غصہ نکالو اور پھر حکومت سے کہو کہ جی ہمیں ڈگریاں دے دو۔مگر امتحان کے لئے تیاری نہ کرو۔جو سوره آل عمران آیت ۲۸۷