سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 226 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 226

226 سبیل الرشاد جلد دوم کر ختم نہیں ہو جاتیں اور اس کے فوائد تک ہی آگے نہیں بڑھتیں بلکہ ہر مسلمان کی سرحدیں وسعت میں بنی نوع انسان کی سرحدوں تک پھیلی ہوئی ہیں۔میں اس وقت جس چیز کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔وہ یہ ہے کہ عملی زندگی میں اس کے آگے بہت سے نتائج نکلتے ہیں۔مثلاً ایک بالکل چھوٹا زمیندار ہے اس کے لئے ساڑھے بارہ ایکڑ کا یونٹ رکھا گیا۔لوگ سمجھتے ہیں کہ اس سے ایک خاندان پل جاتا ہے۔اب اگر وہ پہلا نظریہ ہو تو اس کے مطابق تو اس شخص کو اتنی محنت کرنی چاہئے کہ اس کے خاندان کا پیٹ بھر سکے کیونکہ اس نے جو کچھ کرنا ہے اپنے لئے کرنا ہے۔اور اب اگر فرض کریں کہ اس کے خاندان کے دس افراد ہوں، بڑا کنبہ ہے، میاں بیوی اور آٹھ بچے کھانے والے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے بڑافضل کیا ہے ان کے نفوس میں برکت ڈالی ہے تو گویا اگر نصف سیر غلہ فی کس روزانہ کے حساب سے ساڑھے چارمن غلہ ایک سال کے لئے درکار ہے۔تو دس افراد کے لئے پینتالیس من غلہ کی ضرورت ہے۔تو اگر وہ شخص چھ ایکڑ میں غلہ لگاتا ہے اور پینتالیس من حاصل ہو جاتا ہے تو گویا اس کا پیٹ بھر گیا۔علا وہ ازیں اس نے اپنی زمین میں کچھ کپاس لگائی کچھ اور چیزیں لگائیں۔اور اس طرح اپنی ضرورتیں پوری کر لیں۔اب پہلے نظریہ کے مطابق ( جو دراصل غیر اسلامی نظریہ ہے ) یہ شخص بڑا کامیاب نظر آتا ہے۔مگر اسلام اسے قبول نہیں کرتا۔وہ کہتا ہے تیری کوشش اور محنت کی سرحدیں تو تیری اپنی زندگی یا تیرے خاندان کے جو تقاضے ہیں ان سرحدوں تک نہیں جاتیں۔بلکہ جہاں انسانیت کی سرحد ختم ہوتی ہے۔وہاں تیری محنت کی سرحد ختم ہوتی ہے۔پس وہ اس اسلامی نظریہ کی رو سے زیادہ سے زیادہ محنت کرتا ہے جس کی اسے اپنے لئے تو ضرورت نہیں ہوتی مگر بنی نوع انسان کو ضرورت ہوتی ہے۔اس نظریے کا دوسرا حصہ جو ذکر کرنے سے رہ گیا ہے مختصر یہ ہے کہ مثلاً انگریز با ہر گئے ہیں یعنی اپنے ملک سے آگے گئے ہیں۔لیکن ان کی وسعت انسانی سرحدوں کی انتہاء کو نہیں پہنچی۔مثلاً روسی کہے گا کہ ہم نے انٹرنیشنل پرولیٹیریٹ (INTERNATIONAL PROLETARIAT) کے لئے بھی کام کرنا ہے۔اسی طرح چینی سوشلسٹ یہ کہے گا کہ جو باہر کے ملکوں میں ہمارے ہم خیال لوگ ہیں ان کی تقویت کے لئے اور ان کی بہبود کے لئے بھی ہم نے محنت کرنی ہے۔میرا تاثر یہ ہے کہ روس اپنی نفسانی حدود سے ابھی باہر نہیں نکلا۔لیکن چین اپنی نفسانی حدود سے یعنی خود غرضی کی حدود سے کچھ باہر آ گیا ہے، گوا بھی وہاں تک نہیں گیا جہاں تک اسلام لے کر جانا چاہتا ہے لیکن وہ خود غرضی کی حدود سے کسی قدر باہر آ گیا ہے۔مگر اسلام یہ کہتا ہے کہ اے انسان تو نے اپنے لئے زندگی نہیں گزارنی تو نے بنی نوع انسان کے لئے زندگی گزارنی ہے۔پس یہ ذہنیت ایک احمدی کے اندر پیدا ہونی چاہئے کہ اس کی زندگی کی دوڑ اس کے اپنے ہی